یمن کی تعمیرِنو کا مرحلہ کٹھن ہوگا: خالد بحاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح نے کہا ہے کہ ملک کی تعمیرِنو اور اس کے مسلح لیڈروں اور فورسز کی تشکیل نو سب سے مشکل مرحلہ ہوگا اور یہ اس کے شہریوں کے لیے بھی ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

وہ جنوبی شہر عدن میں فورتھ ملٹری ریجن کی قیادت سے مخاطب تھے۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یمن کی مسلح افواج کی تشکیل نو کی جانی چاہیے اور یہ کام شراکت داری اور علاقیت کے بغیر ہونا چاہیے۔

خالد بحاح اپنے کابینہ کے سات وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ حال ہی میں سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض سے جنوبی شہر عدن لوٹے ہیں اور وہ وہیں سے حکومت کی وفادار فورسز کے عمل داری والے علاقوں میں روزمرہ امور مملکت چلا رہے ہیں۔

وہ اب سرکاری فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کے کنٹرول والے علاقوں میں عسکری اور سیاسی ترجیحات پر اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں اور وہاں امن وامان کی کی بحالی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

یمنی دارالحکومت صنعا اور وسطی اور شمالی شہروں پر سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارے حوثی شیعہ باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔ حوثیوں نے گذشتہ ایک سال ستمبر سے صنعا میں اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے اور وہ شمال سے لے کر جنوب تک یمنی سکیورٹی فورسز اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔

حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کی اس سال مارچ میں جنوبی شہروں کی جانب یلغار کے بعد یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اور ان کی کابینہ کے ارکان الریاض چلے گئے تھے اور وہاں سے جلاوطن حکومت چلاتے رہے تھے۔صدر منصور ہادی ابھی تک الریاض ہی میں مقیم ہیں۔تاہم عدن پر جولائی میں ان کی وفادار فورسز کے دوبارہ قبضے کے بعد ان کی حکومت کے بیشتر اعلیٰ عہدے واپس آچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں