اللاذقیہ میں روسی فوج کو خوش آمدید کہا جائے گا:شامی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ماسکو میں متعیّن شامی سفیرنے کہا ہے کہ ان کا ملک مغربی ساحلی شہر اللاذقیہ میں واقع فوجی اڈے پر روسی فوجیوں کی آمد کا خیرمقدم کرے گا۔

روس کی انٹرفیکس نیوزایجنسی نے بدھ کو شامی سفیر ریاض حداد کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''اگر روس اللاذقیہ کے اڈے پر اپنے فوجی بھیجنے سے اتفاق کرتا ہے تو شام اس اقدام کا خیرمقدم کرے گا کیونکہ اس کا مقصد ہماری سرزمین پر دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی ہوگا''۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس کے درمیان حالیہ دنوں کے دوران شامی تنازعے پر ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ روس شامی شہر اللاذقیہ میں واقع ایک فضائی اڈے پر اپنی فوجی قوت مجتمع کررہا ہے۔

امریکی حکام انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر یہ دعوے کررہے ہیں کہ روس اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں فوجی اور جنگی سازوسامان بھیج رہا ہے۔ان میں ٹینک بھی شامل ہیں لیکن جنگ زدہ ملک میں بھاری فوجی سامان بھیجنے سے متعلق روس کےارادے واضح نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ روس گذشتہ ساڑھے چار سال سے بشارالاسد کی ہر طرح سے مدد وحمایت کرتا چلا آرہا ہے اور اس کی حالیہ دنوں میں شام میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے پر امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک نے تنقید کی ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ماضی میں طے کیے گئے معاہدوں کے تحت شامی فوج کے لیے امداد جاری رکھے گا۔

روس اور امریکا دونوں ہی کا کہنا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش ان کا مشترکہ دشمن ہے لیکن بشارالاسد کے معاملے میں دونوں ممالک کا مؤقف ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔روس اسد حکومت کا سب سے بڑا پشتی بان ہے اور وہ ماضی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شامی صدر کے خلاف پیش کردہ تین قراردادوں کو بھی ویٹو کرچکا ہے جبکہ امریکا کا موقف ہے کہ بشارالاسد کی شام کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے اور ان کے اقتدار سے چمٹے رہنے کی وجہ سے ملک میں صورت حال سنگین ہوچکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں