انٹرنیٹ بے پردگی اور مہنگائی کا سبب بن رہا ہے: ایرانی عالم دین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

#ایران کے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین علامہ محمد تقی مصباح یزدی نے #انٹرنیٹ اور موبائل فون کو ملک میں بے پردگی، فحاشی وعریانی اور مہنگائی کا ایک اہم سبب قرار دیا ہے۔

ایران میں بنیاد پرستوں کی مقرب ویب سائیٹ "رسا" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب سمجھے جانے والے علامہ مصباح یزدی نے ایران میں تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے کلچر پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اس وقت ملک میں ثقافتی بے راہ روی کے ایک طوفان کا سامنا کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے ہمارے حالات کا انقلاب کے بعد کے ایام سے تقابل کیا جائے تو ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ملک میں بے پردگی، حجاب سے نفرت اور مہنگائی کے کیا محرکات ہیں۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کی موجودی سماجی الجھنوں حتیٰ کہ فحاشی و عریانی اور مہنگائی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کا کلیدی کردار ہے۔

ایرانی عالم دین کا انٹرنیٹ سے متعلق بیان صدر #حسن_روحانی کے نظریے سے مختلف ہے۔ صدر حسن روحانی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجاب کو فرد کی ذاتی پسند نا پسند اور اس کے عقیدے کا حصہ قرار دیا۔ صدر حسن روحانی کا یہ بیان اپنی جگہ مگر ایران میں خواتین کو آج بھی جبرا نقاب اور حجاب اوڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر یہ فرد کا معاملہ ہے تو اس کی صوابدید پر کیوں نہیں چھوڑ دیا جاتا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایران میں مہنگائی کا بھی ایک نہ رکنے والا طوفان جاری ہے۔ ہر شہری مہنگائی کا رونا روتا دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کے خیال میں مہنگائی کی بنیادی وجہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کی معاشی بد انتظامی اوران کے دور میں ہونے والی لوٹ مار ہے۔ رہی سہی کسر متنازع جوہری پروگرام پرعالمی اقتصادی پابندیوں نے نکال دی ہے۔

جہاں تک ایران میں جدید مواصلاتی سہولیات کی فراہمی بالخصوص انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کا تعلق ہے تو اس باب میں ایرانی قدامت پسند علماء اور جدید تعلیم یافتہ طبقے میں ایک کشمکش چل رہی ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے شہریوں کو تیز ترین انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے مگر حکومت بھی مذہبی پشوائوں کے دبائو میں محسوس ہو رہی ہے۔

انٹرنیٹ پر تنقید میں صرف علامہ مصباح یزدی ہی نہیں بلکہ ان کے ہم عصر مشہد کے امام جمعہ احمد علم الھدیٰ کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹس اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کے ہاتھ میں ایران کے خلاف استعمال کیے جانے والے اہم آلات ہیں۔

علماء کی تنقید کے ساتھ ساتھ ایرانی حکومت نے بھی سوشل میڈیا پر پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ ایک ہفتہ قبل تہران کی پولیس نے دو شہریوں کو سوشل میڈیا کے استعمال کی پاداش میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا تھا۔

ایران میں "فیس بک" اور "ٹیوٹر" جیسی اہم سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹس تک رسائی بند ہے تاہم شہری اس کے باوجود پراکسی سافٹ ویئرز کی مدد سے ان تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں