جنگجو اسلام کے تشخص کو مجروح کررہے ہیں:خطبۂ حج

سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز کا میدانِ عرفات میں لاکھوں فرزندانِ توحید سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے اپنے خطبۂ حج میں دشمنان اسلام کی اس دین کو نقصان پہنچانے کے لیے سازشوں کی مذمت کی ہے۔انھوں نے مسلم اُمہ پر زوردیا ہے کہ وہ دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔

وہ بدھ کو میدانِ عرفات میں مسجد نمرہ سے حج کے رکنِ اعظم ''وقوف عرفہ''کے لیے جمع لاکھوں فرزندان توحید سے مخاطب تھے۔انھوں نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی مذمت کی ہے اور مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسلام کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں سے آگاہ رہیں جو ان کے بہ قول تخریب کاری اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہیں۔

شیخ عبدالعزیز نے کہا کہ ''انھوں (دہشت گردوں) نے مساجد اور پُرامن شہریوں کو بھی نہیں بخشا ہے۔یہ عناصر گم راہ ہوچکے ہیں اور اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں کو مضبوط کررہے ہیں''۔

انھوں نے کہا:''وہ اسلام کے تشخص کو داغدار کررہے ہیں اور اس کے دشمنوں کے مقاصد کو پورا کررہے ہیں''۔انھوں نے مسلم اُمہ پر زوردیا کہ ''وہ اسلام کے امن، محبت ،آشتی اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر مربوط کوششیں کرے''۔

مفتیِ اعظم نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کی ناانصافیوں کو حرام قرار دیا ہے اور کوئی بھی انسان دوسرے انسان کی ناحق جان لینے کا حق نہیں رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر طرح کی ناانصافیوں کا جلد یا بدیر خاتمہ کردیا جائے گا۔

انھوں نے اپنے خطبے میں خاص طور پر نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کو انارکی پھیلانے والوں کی آوازوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔اس کے بجائے انھیں تعمیری سرگرمیوں پر اپنی توانائیاں صرف کرنی چاہئیں اور اسلام کے حقیقی پیغام کو پھیلانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو دنیا بھر میں رہنے والے لوگوں کے لیے مینارہ نور بنانا چاہیے۔انھوں نے اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو مخاطب کرکے کہاکہ انھیں اپنے عوام کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے اور اُمہ کی صفوں میں اتحاد کے فروغ کے لیے کوششوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

شیخ عبدالعزیز نے میڈیا پر بھی زوردیا کہ اوراس کو اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریوں کو دیانت دارانہ انداز میں انجام دینا چاہیے۔مسلم اُمہ کے درمیان اتحاد اور اچھی باتوں کو فروغ دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان کے دشمن متحد ہوچکے ہیں۔انھوں نے بالخصوص مسجدالاقصیٰ کو تقسیم کرنے کی سازشوں کا ذکر کیا اور کہا کہ قبلۂ اول کو آزاد کرانے کے لیے ہماری کوششیں کم زور پڑچکی ہیں۔

انھوں نے دنیا بھر کے مقہور مسلمانوں سے کہا کہ وہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں کیونکہ ان کی مشکلات کے خاتمے کا وقت قریب ہی ہے۔انھوں نے اپنے خطبے کے اختتام میں مسلم اُمہ کے درمیان اتحاد ویک جہتی اور مسلمانوں کو درپیش مسائل کے خاتمے کے لیے دعاکی۔

قبل ازیں لاکھوں فرزندان توحید خطبہ حج سماعت کرنے کے لیے میدان عرفات میں جمع ہوئے تھے۔وقوفِ عرفہ کے بعد وہ مزدلفہ کے لیے روانہ ہوگئے جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کرنے کے بعد آج رات کھلے آسمان تلے گزار رہے ہیں۔جمعرات کو حجاج کرام واپس منیٰ آجائیں گے جہاں وہ شیطان کو کنکریاں ماریں گے اور اللہ کی راہ میں جانور قربان کریں گے۔یہ عمل تین روز تک جاری رہے گا۔

اس دوران حجاج کرام اپنے سر منڈوائیں گے اور کعبۃ اللہ کا آخری طواف ''طواف زیارہ'' کریں گے اور یوں ان کے مناسک حج کی تکمیل ہوجائے گی۔واضح رہے کہ اس سال دنیا بھر سے آئے ہوئے بیس لاکھ سے زیادہ مسلمان فریضہ حج ادا کررہے ہیں۔ان میں پاکستانی حجاج کرام کی تعداد 143368 ہے۔

سعودی حکومت نے منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کے دوران بھگدڑ سے بچنے کے لیے اربوں ڈالرز کی لاگت سے بہتر انتظامات کیے ہیں۔یاد رہے کہ 2006ء میں منیٰ میں بھگدڑ مچ جانے سے تین سو چونسٹھ حجاج جاں بحق ہوگئے تھے،اس سے دوسال پہلے 2004ء میں دوسو اکاون حجاج شیطان کو
کنکریاں مارنے کے دوران جاں بحق ہوئے تھے جس کے بعد پرانے پُل کو مسمار کر کے اس کی جگہ جمرات کے ارد گرد کثیر منزلہ پُل بنا دیا گیا تھا۔

سعودی حکومت نے حج کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور دس مربع کلومیٹر کے علاقے میں واقع مکہ معظمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کررکھے ہیں۔انتظامی عملے کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔حجاج کرام کو بروقت طبی سہولتیں مہیا کرنے کے بھی انتظامات کیے گئے ہیں اور طبی عملے کے سیکڑوں اہل کار اور ہردم مستعد رضاکار حجاج کی خدمت پر مامور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں