مصر فرانس سے دوجنگی بحری جہاز خرید کرنے پر آمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر نے فرانس سے دو طیارہ بردار مسٹرال جنگی بحری جہاز خرید کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔فرانس نے یہ دونوں بحری جہاز روس کو فروخت کرنے کے لیے تیار کیے تھے لیکن یوکرین بحران کی وجہ سے اس نے روس کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا تھا۔

فرانسیسی ایوان صدر کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ''صدر فرانسو اولاند اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے دو مسٹرال کلاس جہاز کی مصر کو فروخت کے معاملے کی شرائط و ضوابط سے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے''۔

روس نے فرانس سے سنہ 2011ء میں ایک ارب بیس کروڑ یورو مالیت کے ان دونوں جنگی بحری جہازوں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا۔ان میں ایک جہاز پر سولہ ہیلی کاپٹر ،چار طیارے اور تیرہ ٹینک کھڑے کیے جاسکتے ہیں۔

فرانس نے 2014ء میں ان دونوں جہازوں کو روس کے حوالے کرنا تھا لیکن تب روس کی یوکرین کے علاقے کریمیا کو ایک متنازعہ ریفرینڈم کے نتیجے میں ضم کرنے کے اقدام پر مغرب کے ساتھ کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔روس کے مشرقی یوکرین میں علاحدگی پسندوں کی حمایت کی وجہ سے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات سرد جنگ کے زمانے کی سطح تک سرد مہری کا شکار ہوگئے تھے۔

یوکرین بحران کے بعد فرانس نے روس کو یہ دونوں طیارہ بردار جنگی بحری جہاز فروخت کرنے کا معاہدہ ہی ختم کردیا تھا۔فرانس کے لیے یہ ایک مہنگا فیصلہ تھا کیونکہ اس کو ان جہازوں کی دیکھ بھال کی لاگت اور چار سو روسی سیلروں کی تربیت پر اٹھنے والے اخراجات بھی خود برداشت کرنا پڑے ہیں۔

فرانس اور روس نے آٹھ ماہ تک مذاکرات کے بعد اس سال اگست میں اس ڈیل کے خاتمے سے اتفاق کیا تھا۔فرانس نے جہازوں کی خریداری کے لیے وصول شدہ رقم لوٹانے سے بھی اتفاق کیا تھا اور سمجھوتے کے تحت وہ چورانوے کروڑ ستانوے لاکھ یورو روس کو لوٹا چکا ہے۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق فرانس ان دونوں جنگی بحری جہازوں کو روس کے مفادات کے لیے ضرررساں ثابت ہونے والے کسی بھی ملک کو فروخت نہ کرنے کا بھی پابند ہے۔ یہ ملک پولینڈ اور بالٹک ریاستیں ہوسکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق کینیڈا ،بھارت اور سنگاپور سمیت متعدد ممالک نے ان جہازوں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ مصر فرانس کو ان جہازوں کی خریداری کے لیے کتنی رقم ادا کرے گا۔تاہم اس سال دونوں ممالک کے درمیان یہ دوسرا بڑا دفاعی سودا ہے۔اس سے پہلے فروری میں مصر نے فرانس سے چوبیس رافال لڑاکا جیٹ خرید کرنے کے لیے پانچ ارب بیس کروڑ یورو کا معاہدہ طے کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں