.

بشارالاسد کو شام مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے:اینجیلا مرکل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کو شام امن مذاکرات میں شریک کیا جانا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں بحران کے حل کے لیے بہت سے کرداروں سے بات کرنا ہوگی اور ان میں دوسروں کے علاوہ بشارالاسد بھی شامل ہونے چاہئیں۔

وہ برسلز میں یورپی یونین کے سربراہ اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔اس اجلاس میں شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں مغربی ممالک میں مہاجرین کی جوق درجوق آمد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے پر غور کیا گیا ہے۔

اینجیلا مرکل کا کہنا تھا کہ ''نہ صرف امریکا اور روس سے بات چیت کی جانی چاہیے بلکہ اہم علاقائی شراکت داروں ،ایران اور سنی ممالک سعودی عرب وغیرہ سے بھی بحران کے خاتمے کے لیے بات چیت کی جانی چاہیے''۔

جرمن چانسلر کے اس بیان سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ اب یورپی ممالک شامی صدر بشارالاسد کے بارے میں موقف میں نرمی لانے پر آمادہ ہیں۔امریکا سمیت مغربی ممالک پہلے یہ کہتے رہے ہیں کہ شام کے مستقبل میں بشارالاسد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے لیکن اب شامی عوام کو درپیش مسائل کے پیش نظر انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ بحران کے حل کے لیے انھیں بشارالاسد سے بھی بات کرنا ہوگی اور انھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

تاہم امریکا اور فرانس اپنے دیرینہ موقف پر قائم ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنا ہوگا لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ فوری طور پر صدارت سے سبکدوش ہوجائیں بلکہ شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کسی حل تک پہنچنے کے بعد وہ ایسا کرسکتے ہیں۔

برطانوی وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ نے بھی اس سے ملتا جلتا بیان دیا تھا جبکہ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے جمعرات کو یورپی یونین کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ''بشارالاسد کے لیے شام کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے اور ان کی رخصتی کے بغیر انتقال اقتدار ہوگا اور نہ شام مستقبل میں آگے کی جانب بڑھ سکے گا''۔