.

روس کی فوجی مشق، داعش مخالف حملوں کی منصوبہ بندی کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ بحرمتوسطہ (بحرروم) کے مشرق میں شام کے ساحلی علاقے کے نزدیک فوجی مشقیں کررہی ہے اور اس دوران میں گائیڈڈ میزائل کروزر کے تجربات بھی کیے جائیں گے۔

روس نے حال ہی میں شام کے ساحلی شہر اللاذقیہ کے نزدیک ایک ہوائی اڈے پر بھاری ہتھیار،لڑاکا طیارے،ہیلی کاپٹر اور فوجی بھیجے ہیں۔اس کے ردعمل میں امریکی حکام نے کہا ہے کہ روس شامی شہر کے نزدیک ایک فوجی اڈا بنا رہا ہے جبکہ روس نے اس کی تردید کی ہے کہ وہ شامی شہرمیں اپنے اتحادی صدر بشارالاسد کے اقتدار کو بچانے کے لیے فوجیں مجتمع کررہا ہے بلکہ اس کے بجائے وہ شامی صدر کی داعش مخالف جنگ میں مدد کرنا چاہتا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ بحر متوسطہ کے مشرقی حصے میں ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے اوائل میں فوجی مشقیں کی جائیں گی۔اس میں گائیڈڈ میزائل کروزر ،تباہ کن گائیڈڈ میزائل اور جنگی بحری جہاز حصہ لیں گے۔

مشقوں کے وقت کے حوالے سے وزارت کا کہنا ہے کہ روس ہمیشہ اسی موسم میں اور اسی علاقے میں بحری فوجی مشقیں کرتا چلا آرہا ہے اور حکومت نے ایک سال قبل بحرمتوسطہ میں ان بحری فوجی مشقوں کی منظوری دی تھی۔

روس کا گائیڈ میزائل کروزر موسکفا کریمیا کی بندرگاہ سیواستوپول سے جمعرات کو باسفورس کے لیے روانہ ہوا تھا۔تاہم وزارت دفاع نے اس کی منزل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔

ادھر ماسکو میں صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے شام میں روس کی فوجی موجودگی کے حوالےسے غیرملکی میڈیا میں چہ میگوئیوں اور قیاس آرائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ شام میں روس کی فوجی سرگرمی سے متعلق ایک حالیہ رپورٹ بالکل بے بنیاد ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ماسکو شام میں داعش کے خلاف یک طرفہ حملوں کی تیاری کررہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ محض قیاس آرائی ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مسٹر پیسکوف کا کہنا تھا کہ انھیں صدر ولادی میر پوتین کے ایسے کسی منصوبے کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں ہے جس کے تحت وہ روسی پارلیمان سے شام میں فوج بھیجنے کی منظوری کے لیے رجوع کرنے والے ہیں۔

واضح رہے کہ ماسکو میں متعیّن شامی سفیر ریاض حداد نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''ان کا ملک مغربی ساحلی شہر اللاذقیہ میں واقع فوجی اڈے پر روسی فوجیوں کی آمد کا خیرمقدم کرے گا کیونکہ اس کا مقصد ہماری سرزمین پر دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی ہوگا''۔