.

شام:اسرائیل اور روس کی مشترکہ رابطہ کمیٹی کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور روس نے شام میں حادثاتی طور پر باہمی فائرنگ کے تبادلے سے بچنے کے لیے ایک رابطہ کمیٹی قائم کی ہے۔دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے نائب سربراہان اس کمیٹی سربراہ ہوں گے اور پانچ اکتوبر کو اس کا پہلا اجلاس ہوگا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور روسی صدر ولادی میر پوتین نے گذشتہ سوموار کو اس مشترکہ کمیٹی کے قیام سے اتفاق کیا تھا۔یہ فیصلہ روس کی جانب سے حالیہ دنوں کے دوران شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں فوجی امداد کے اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

روس نے حال ہی میں شام میں اپنے فوجی اور جنگی سازوسامان بھیجا ہے۔امریکی حکام اور علاقائی ذرائع کے مطابق ان میں جدید طیارہ شکن یونٹ اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔اس پر اسرائیل نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کے لڑاکا طیارے شام میں گذشتہ ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران متعدد مرتبہ اسدی فوج ،لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں اور ایرانی فوجیوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ایک افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ''ماسکو کے ساتھ بات چیت میں شام میں فضائی کارروائیوں اور برقی مقناطیسی رابطے پر توجہ مرکوز کی جائے گی''۔ اس کے علاوہ اسرائیل اور روس بحرمتوسطہ میں شام کی سمندری حدود میں کارروائیوں کے دوران بھی ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں گے۔

ادھر ماسکو میں کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ شام کے معاملے میں روس اوراسرائیل کے باہمی رابطوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔البتہ ترجمان نے رابطہ ٹیم کے جلد اجلاس کے انعقاد کی تصدیق نہیں کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں ابلاغی چینلز اور ممکنہ کارروائیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور بعض نکات اور سمجھوتوں سے اتفاق کیا گیا تھا۔