.

سانحہ منیٰ :عالمی رہ نماؤں کا مسلم دنیا سے اظہارِ افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی رہ نماؤں نے منیٰ (مکہ مکرمہ) میں جمعرات کو رمی جمرات کے دوران بھگدڑ کے نتیجے میں سات سو سے زیادہ حجاج کی شہادتوں پر مسلم دنیا اور سعودی عرب کے ساتھ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے منیٰ میں رمی جمرات کے دوران بھگدڑ کے واقعے کے بعد حج منصوبے پر نظرثانی کا حکم دیا ہے۔انھوں نے اس افسوس ناک واقعے کی فوری تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔انھوں نے شہید حجاج کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تحقیقات کے نتائج منظرعام پر آنے اور میکانزم کی ترقی اور اپ گریڈنگ کے باوجود حج کے مناسک جاری رہیں گے اور ان میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

شاہ سلمان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ''ضیوف الرحمان کو درپیش مناسکِ حج کی ادائی میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائےگا کیونکہ اللہ کے مہمانوں کی خدمت ہمارے لیے ایک اعزاز ہے۔ہماری اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس عظیم مشن کی تکمیل میں کامیاب کرے''۔

پوپ فرانسیس

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے مکہ مکرمہ میں سات سو سے زیادہ حجاج کرام کی بھگدڑ کے دوران شہادت پر دنیا کے تمام مسلمانوں کے ساتھ افسوس ،ہمدردی اور قُربت کا اظہار کیا ہے۔

نیویارک کے سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل میں شام کی دعائیہ تقریب کے دوران تقریر کرتے ہوئے پاپائے روم نے کہا کہ ''میں مکہ میں رونما ہونے والے سانحے کے موقع پر مسلمانوں کے ساتھ ہوں۔میں خدا کے حضور آپ کے ساتھ ہوں اور دعا گو ہوں''۔

سیکریٹری جنرل،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے اپنی تعزیتی بیان میں کہا کہ ''مجھے وادیِ منیٰ میں مہلک حادثے میں حجاج کی سات سو سے زیادہ اموات کا سن کر گہرا صدمہ پہنچا ہے۔یہ سانحہ اس لحاظ سے زیادہ افسوس ناک ہے کہ یہ عیدالاضحیٰ کے پہلے روز رونما ہوا ہے''۔

انھوں نے شہید ہونے والے تمام حجاج کے خاندانوں سے دلی افسوس اور تمام متعلقہ حکومتوں کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس ،برطانیہ ،جنوبی افریقہ

درایں اثناء وائٹ ہاؤس نے منیٰ میں بھگدڑ کے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر ان کے لواحقین سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ دنیا بھر کے تمام مسلمان عیدالاضحیٰ منارہے ہیں،ایسے ہم حجاج کرام کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر سوگواروں کے ساتھ ہیں۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور جنوبی افریقہ کے قائم مقام صدر سیرل راما فوسا نے بھی ایک بیان میں منیٰ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصورالترکی نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ منیٰ میں شاہراہ 204 پر بھگدڑ کا واقعہ حجاج کے غیرمعمولی رش کی وجہ سے پیش آیا تھا۔انھوں نے منیٰ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے اسباب کی تحقیقات کی جائے گی اور اس معاملے کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ اس افسوس ناک واقعے کی جگہ پر اچانک حجاج کا اتنی زیادہ تعداد میں ہجوم کیوں لگ گیا تھا کیونکہ اس کی وجہ ہنوز معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 1990ء کے بعد شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کے دوران بھگدڑ سے حجاج کی شہادتوں کی تعداد کے اعتبار سے یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔تب منیٰ میں بھگدڑ مچ جانے سے 1426 حجاج شہید ہوگئے تھے۔

سعودی حکومت نے منیٰ میں بھگدڑ سے بچنے کے لیے اربوں ڈالرز کی لاگت سے بہتر انتظامات کیے ہیں۔یاد رہے کہ 2006ء میں منیٰ میں بھگدڑ مچ جانے سے تین سو چونسٹھ حجاج جاں بحق ہوگئے تھے،اس سے دوسال پہلے 2004ء میں دوسو اکاون حجاج شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران جاں بحق ہوئے تھے جس کے بعد پرانے پُل کو مسمار کر کے اس کی جگہ جمرات کے ارد گرد کثیر منزلہ پُل بنا دیا گیا تھا تاکہ حجاج بآسانی سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہوکر شیطان کو کنکریاں مارسکیں لیکن اس انتظام کے باوجود یہ افسوس ناک سانحہ پیش آ گیا ہے۔