.

مقبوضہ کشمیر: انٹرنیٹ سروس معطل، پُرتشدد مظاہرے

بھارت کے زیرانتظام ریاست میں گائے کی قربانی پر پابندی کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں نے عیدالاضحیٰ کی نماز کے بعد قابض حکام کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں،بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور لاٹھی چارج کیا ہے۔

بھارتی حکام نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور انھوں نے تمام موبائل اور لینڈ لائن انٹرنیٹ سروسز کو دو دن کے لیے بلاک کردیا ہے تاکہ مسلمانوں کو عید کے موقع پر جانور اور خاص طور پر گائے کو قربان کرنے کی تصاویر اپ لوڈ کرنے سے روکا جاسکے۔

بھارتی پولیس کے مطابق کشمیریوں نے دارالحکومت سری نگر اور دو اور مقامات میں نماز عید کے بعد احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔انھوں نے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم پکڑ رکھے تھے اورانھوں نے بھارتی فورسز کی جانب پتھراؤ کیا ہے۔

مقبوضہ ریاست میں گائے کی قربانی اوراس کے گوشت کی فروخت پر پابندی کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔ایک عدالت نے پابندی سے متعلق قانون کو برقرار رکھا ہے۔ مسلمان اس اقدام کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور احتجاجی ریلیوں کے دوران ان کی بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

یادرہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں 1989ء سے کشمیری حریت پسند مکمل آزادی یا پھر پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے قابض بھارتی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کررہے ہیں اور اس دوران ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں یا غائب کردیے گئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی حریت پسند تنظیموں کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارتی فوج کی کارروائیوں میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد شہید ہوچکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھبیس سال کے دوران مقبوضہ وادی میں دس ہزار سے زیادہ افراد غائب کردیے گئے ہیں اور وہاں چھے ہزار سے زیادہ بے نامی قبریں برآمد ہوئی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کوجعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کے بعد انھیں ان قبروں میں اُتار دیا تھا۔