.

کیا ترکی نے بشار کے بارے میں موقف بدل لیا؟

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل ایسے ہی نقطہ نظر کا اظہار کر چکی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن، جو ہمیشہ شامی صدر کی اقتدار سے برخاستگی کے حامی رہے ہیں، نے جمعرات کو ایک بیان میں اپنے ماضی کے موقف سے مختلف رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بشار الاسد کو شامی بحران کے عبوری حل کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

شامی بحران کے ممکنہ حل کے بارے میں اخبار نویسوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایردوآن کا کہنا تھا کہ "عبوری مرحلہ بشار الاسد کے بغیر بھی طے پا سکتا ہے اور اس میں بشار الاسد کا کوئی کردار بھی ہو سکتا ہے۔"

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ شام میں کوئی بھی بشار الاسد کا کوئی مستقبل نہیں دیکھتا۔ شامی اپنے ساڑھے تین لاکھ ہم وطنوں کے قتل کے ذمہ دار آمر کو قبول نہیں کریں گے۔ یہ بیانات شامی حکومت سے متعلق ترکی کے نقطہ نظر میں تبدیلی کا سمت اشارہ کرتے ہیں۔

تاہم نیٹو میں ترکی کے اتحادی امریکا اور برطانیہ شامی حکومت کے بارے میں مختلف سوچ رکھتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں مطالبہ کیا تھا کہ شامی صدر اقتدار سے الگ ہوں، تاہم شام میں جاری تنازع کے خاتمے کے لئے فوری طور پر مسئلے کا حل ضروری ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے بھی ایسی ہی رائے کا اظہار کیا تھا جبکہ جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے بشار الاسد کو شامی بحران کے حل سے متعلق مذاکرات میں شامل رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

ترکی، ابتک شامی تنازع کے کسی بھی حل میں شامی صدر بشار الاسد کی شمولیت کا سختی سے مخالف رہا ہے کیونکہ انقرہ اسے اپنے ملک کی تمام مشکلات کا سبب سمجھتا ہے۔