امریکا کے تربیت یافتہ شامی باغیوں کا اسلحہ النصرۃ کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کی شامی باغیوں کو تربیت دینے اور انھیں سخت گیر جنگجو داعش کے خلاف میدان جنگ میں اتارنے کی کوششیں ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی رائیگاں جاتی نظر آرہی ہیں اور اس نے حال ہی میں جن شامی باغیوں کو تربیت دے کر داعش کے خلاف لڑائی کے لیے بھیجا ہے،وہ میدان جنگ میں نبردآزما ہونے کے بجائے القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ سے جاملے ہیں۔

ان باغیوں نے اپنی حمایت ہی تبدیل نہیں کی ہے بلکہ امریکا سے ملنے والا اسلحہ اور جنگی سازوسامان بھی النصرۃ محاذ کے حوالے کردیا ہے۔امریکا کی سنٹرل کمان کے ترجمان کرنل پیٹرک رائیڈر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ باغیوں نے 21 اور 22 ستمبر کو چھے پک اپ ٹرک اور کچھ اسلحہ اور گولہ بارود یا انھیں جاری کردہ ایک چوتھائی ہتھیار النصرۃ کے ساتھ رابطے کا ذریعہ ایک مشتبہ شخص کے حوالے کردیے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اگر این ایس ایف (نئی شامی فورسز) کی جانب سے النصرۃ محاذ کو اسلحہ اور فوجی آلات مہیا کرنے کی رپورٹ درست ہے تو یہ بہت ہی تشویش ناک امر ہے اور شامی باغیوں کو تربیت دینے اور مسلح کرنے کے لیے وضع کردہ رہ نما اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

کرنل رائیڈر کے بہ قول امریکا کی مرکزی کمان کو بتایا گیا ہے کہ شامی باغیوں نے محفوظ راستہ دینے کے بدلے میں جمعہ کی دوپہر ایک بجے اپنے ہتھیار اور گاڑیاں النصرۃ محاذ کے حوالے کی تھیں جبکہ اس سے چندے قبل اس امریکی ترجمان ہی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے جاری کردہ تمام فوجی سازوسامان اور آلات باغیوں کے پاس ہی ہیں۔

اگر یہ خبر درست ہے تو یہ امریکا کی داعش مخالف باغیوں پر مشتمل ملیشیا کھڑا کرنے کی کوشش کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔امریکی فوج کے ایک اعلیٰ جرنیل نے گذشتہ ہفتے کانگریس کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں مٹھی بھر باغی ہی لڑرہے ہیں جبکہ امریکی فوجی حکام کا اسی ہفتے کہنا تھا کہ دسیوں مزید باغی ان کے ساتھ داعش مخالف جنگ میں شامل ہوگئے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تربیت یافتہ باغیوں کے منحرف ہونے کی اطلاعات کے پیش نظر پروگرام پر نظرثانی کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ ترکی اور امریکا کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد فروری میں شامی باغیوں کو فوجی تربیت دینے اور انھیں مسلح کرنے سے متعلق پروگرام پر سمجھوتا طے پایا تھا اور اس پر مئی میں عمل درآمد کا آغاز کیا گیا تھا۔

پینٹاگان کے اس مجوزہ پروگرام کے تحت پندرہ ہزار سے زیادہ شامی باغیوں کو فوجی تربیت دینے اور مسلح کرنے میں تین سال کا عرصہ لگے گا۔امریکا نے چند ماہ قبل شامی حزب اختلاف کے قریباً بارہ سو جنگجوؤں کو فوجی تربیت کے لیے مکمل چھان بین کے بعد نامزد کیا تھا۔ انھیں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے پینٹاگان کے وضع کردہ پروگرام کے تحت جدید اسلحہ چلانے کے علاوہ جنگی حربوں کی تربیت دی جائے گی۔اس پروگرام کے تحت ایک سال میں پانچ ہزار سے زیادہ شامی جنگجوؤں کو تربیت دی جائے گی۔ان میں سے قریباً تین ہزار کو 2015ء کے اختتام تک تربیت یافتہ بنایا جاسکتا ہے۔

شامی باغیوں کو عام ہتھیاروں کے استعمال ،ٹینک شکن ہتھیاروں ،انفینٹری رائفلوں اور مشین گنوں کو چلانے کے بارے میں بتایا جائے گا۔اس فوجی تربیت کے بعد انھیں مرحلہ وار واپس شام بھیجا جا رہا ہے جہاں ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں