.

"منیٰ حادثے پر سعودی حکومت پر تنقید بے جا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے ناظم دفتر محمد ہاشمی نے سعودی عرب میں منیٰ کے مقام پر ہونے والی بھگڈر میں بڑے پیمانے پر حاجیوں کی شہادت کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ اس معاملے پر سعودی حکام کی ملامت سے احتراز کرنا چاہئے اور تحقیقات سے قبل نتائج اخذ کرنے سے باز رہنا چاہئے۔

محمد ہاشمی کا نقطہ نظر ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ سمیت دوسرے متعدد اعلی عہدیداروں سے قطعی مختلف ہے جس میں انہوں نے منیٰ واقعے پر سعودی حکومت کو تنقید بنایا۔ ایرانی صدر حسن روحانی اور دوسرے ایرانی حکام نے بھی ایسے ہی بیانات دیئے جس کے بعد مبصرین نے کہنا شروع کر دیا کہ تہران سعودی عرب میں پیش آنے والے حادثے پر سیاست چمکا رہا ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کے روز منیٰ میں بھگڈر میں سات سو سے زائد حاجی شہید ہوئے جن میں تین سو کا تعلق ایران سے بتایا جاتا ہے۔

محمد ہاشمی رفسنجانی نے ایرانی خبر رساں ادارے 'فارس' سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایسے معاملات میں فیصلے صادر کرنا مشکل امر ہے۔ تہران میں گذشتہ دنوں 8 ملی میٹر بارش کے بعد متعدد افراد ہلاک ہوئے، اس واقعہ کی روشنی میں فیصلے صادر کافی نہیں۔