ایرانی خواتین فٹبال ٹیم میں 8 مرد کھلاڑیوں کا اسکینڈل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

#ایران کی خواتین فٹبال ٹیم میں چار مرد کھلاڑیوں کی شمولیت سے متعلق اسکینڈل کے حوالے سے ایرانی میڈیا میں بہت لے دے ہو رہی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں خواتین کی قومی فٹبال ٹیم میں کئی برسوں سے کھیلنے والے مرد کھلاڑیوں کے نام شائع ہونے پر #تہران کو اپنے سیاسی اسکینڈل کے بعد کھیل کے میدان میں بھی خجالت کا سامنا ہے۔

ایران کی فٹبال فیڈریشن آٹھ برسوں سے خواتین کی قومی فٹبال ٹیم میں چار مرد کھلاڑیوں کی موجودگی سے متعلق خبروں کو 'افواہ' قرار دیکر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی، تاہم حال ہی میں فیڈریشن سے وابستہ ذرائع نے اس حقیقت کا اعتراف یہ کہتے ہوئے کر لیا کہ خواتین کی ٹیم میں چار نہیں بلکہ آٹھ مرد مختلف اوقات میں کھیلتے رہے ہیں۔

'ینگ میڈیا کلب' نامی ویب پورٹل سے بات کرتے ہوئے فیڈریشن کے اہلکار مجبتی شریفی نے خواتین ٹیم میں کھیلنے والے مرد کھلاڑیوں کے نام بتانے کے بجائے ان کے ابتدائی حروف منکشف کرنے ہی پر اکتفا کیا۔

فٹبال فیڈریشن نے اب تک اپنے عہدیدار کے بیان پر تبصرہ نہیں کیا تاہم مسٹر شریفی نے ایران کی فٹبال فیڈریشن کو اس 'غیر اخلاقی' اسکینڈل کا ذمہ دار قرار دیا کیونکہ ان کی طرف سے معاملات کا باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا گیا جس کے باعث متعدد باصلاحیت خواتین کھلاڑی قومی فٹبال ٹیم میں نمائندگی کے حق سے محروم رہیں۔

خواتین کی فٹبال ٹیم میں مرد کھلاڑیوں کی بازگشت 2008 میں پہلی بار سنائی دی۔ اس وقت 'شن سائی ساوہ' کلب کے سربراہ محمد مرتضی نجاد اور دو ٹرینرز نے خواتین ٹیم میں مردوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کیا، تاہم فٹبال فیڈریشن نے اسے 'جھوٹ' قرار دے کر مسترد کر دیا۔

گذشتہ برس برطانوی اخبار 'ٹیلی گراف' نے خواتین کی فٹبال ٹیم میں چار 'ہم جنس پرست' مرد کھلاڑیوں کی نشاندہی کی تھی جس کے بعد ایرانی فٹبال فیڈریشن نے انہیں ٹیم سے نکال دیا تھا، لیکن اسکینڈل پر میڈیا میں لے دے کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا۔

اخبار کے مطابق چاروں کھلاڑیوں نے اپنی جنس تبدیلی کا آپریشن کروایا جو کامیاب نہیں ہو سکا تھا، اس لئے انہیں خواتین کی ٹیم میں رسمی طور پر شرکت کا حق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں