شامی باغیوں کے لیے امریکی امداد غیر قانونی ہے:پوتین

امریکا کے تربیت یافتہ شامی باغی اسلحے سمیت داعش میں شامل ہورہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے امریکا کی جانب سے شام میں باغی جنگجوؤں کے لیے امداد کو غیر قانونی اور غیرمؤثر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کے تربیت یافتہ باغی اسلحے سمیت دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) میں شامل ہورہے ہیں۔

انھوں نے یہ بات امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس سی بی ایس اور پی بی ایس کے ساتھ انٹرویوز میں کہی ہے۔انھوں نے نیویارک میں امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات سے ایک روز قبل کہا ہے کہ ''شامی صدر بشارالاسد بین الاقوامی حمایت کے حق دار ہیں کیونکہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑرہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''میری رائے میں غیر قانونی ڈھانچوں کے لیے فوجی امداد جدید بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے منافی ہے''۔انھوں نے عراق اور شام میں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے مربوط فریم ورک کے قیام کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ولادی میر پوتین نے کہا کہ ''داعش کے خلاف جنگ میں ہم نے خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کی تجویز پیش کی ہے۔ہم مربوط فریم ورک کے قیام کی کوشش کررہے ہیں اور ہم دہشت گردوں کے خلاف اجتماعی اقدام کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم کا خیرمقدم کریں گے''۔

انھوں نے بتایاکہ انھوں نے ذاتی طور پر سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز،اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور امریکا کو بھی اپنے اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دمشق کو داعش کے خلاف بین الاقوامی کوششوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔انھوں نے امریکا کی جانب سے پانچ ہزار چار سو شامی باغیوں کو داعش کے خلاف جنگ کے لیے تربیت دینے کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ ''صرف ساٹھ باغی جنگجوؤں کو مناسب انداز میں تربیت دی گئی ہے اور دراصل چار یا پانچ لوگ ہی درست طور پر ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔باقی تمام جنگجو منحرف ہوکر امریکی ہتھیاروں سمیت داعش میں شامل ہوچکے ہیں''۔

پوتین نے کہا کہ ''روس اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد پر بشارالاسد حکومت کی حمایت کررہا ہے اور ہم صرف جائز اور قانونی حکومتی اداروں کو امداد مہیا کررہے ہیں۔آج ہم شامی حکومت کو ہتھیارمہیا کررہے ہیں،فوجیوں کو تربیت دے رہے ہیں اور شامی عوام کے لیے انسانی امداد مہیا کررہے ہیں''۔

روس نے حال ہی میں شام کے ساحلی شہراللاذقیہ کے نزدیک ایک ہوائی اڈے پر بھاری ہتھیار،لڑاکا طیارے،ہیلی کاپٹر اور فوجی بھیجے ہیں۔اس کے ردعمل میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روس شامی شہر کے نزدیک ایک فوجی اڈا بنا رہا ہے جبکہ روس نے اس کی تردید کی ہے کہ وہ شامی شہرمیں اپنے اتحادی صدر بشارالاسد کے اقتدار کو بچانے کے لیے فوجیں مجتمع کررہا ہے بلکہ اس کے بجائے وہ شامی صدر کی داعش مخالف جنگ میں مدد کررہا ہے۔

واضح رہے کہ روس گذشتہ ساڑھے چار سال سے شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران بشارالاسد کی ہر طرح سے مدد وحمایت کرتا چلا آرہا ہے اور اس کی حالیہ دنوں میں شام میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے پر امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک نے تنقید کی ہے۔

روس اور امریکا دونوں ہی کا کہنا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش ان کا مشترکہ دشمن ہے لیکن بشارالاسد کے معاملے میں دونوں ممالک کا مؤقف ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔روس اسد حکومت کا سب سے بڑا پشتی بان ہے جبکہ امریکا کا موقف ہے کہ بشارالاسد کی شام کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے اور ان کے اقتدار سے چمٹے رہنے کی صورت میں یہ بحران حل نہیں ہوسکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں