بشار الاسد کو شامی حکومت چھوڑنا ہو گی: اوباما

"شامی صدر داعش کے خلاف لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما نے روس کو خبردار کیا کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کی حمایت سے باز رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی تمام اقوام کو کرنا ہو گی۔ امریکا نے شام تنازعہ حل کرنے کیلئے ایران اور روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کو نافذ ہوئے ستر برس ہو گئے اور اب بعض حلقے یہ کہنے لگے ہیں کہ یہ ادارہ اپنی افادیت کھو چکا ہے اور قوموں کو پرانے طریقے اخیتار کر لینے چاہییں، ’’اس بنیاد پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ چند طاقتیں کچھ اس طرح کے عمل کا مرتکب ہو رہی ہیں جو کہ بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو رہا ہے۔‘‘

اوباما شام کا براہ راست ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسی منطق کو مان لیا جائے تو ہمیں بشار الاسد جیسے آمروں کی حمایت کرنی چاہیے، جو معصوم بچوں پر بیرل بم برسا رہا ہے، کیوں کہ متبادل اس سے بھی برا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ واشنگٹن شامی تنازعے کے حل کے لیے دیگر عالمی طاقتوں کی طرح ایران اور روس ساتھ بھی مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ خطاب میں انہوں نے البتہ واضح کیا کہ شامی صدر بشار الاسد کو اقتدار سے الگ ہونا پڑے گا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر اسد سے تعاون نہ کرنا بہت بڑی غلطی ہو گی کیوں کہ انہی کہ پاس شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ المعروف داعش سے مقابلہ کرنے کی طاقت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’صدر اسد کی افواج دہشت گردوں سے رو بہ رو مقابلہ کر رہی ہیں۔ ہمیں بالآخر اعتراف کرنا چاہیے کہ صدر اسد کی فوجیں اور کرد ملیشیا ہی اصل میں داعش اور شام میں موجود دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاق کارروائی کر رہے ہیں۔‘‘

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ شام کی صورت حال پر عالمی فوج داری عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔ بین کی مون نے پہلی مرتبہ شامی تنازعے کو عالمی عدالت لے جانے کے حوالے سے کوئی بیان دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام کے شہری بیرل بموں اور دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں اور اس عمل کو روکنے کے لیے عالمی برداری کو فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں