بشار الاسد کی حکومت کو کمزور نہیں کیا جاسکتا: روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر #حسن_روحانی کا کہنا ہے کہ #شام میں #داعش جیسے انتہاپسند شدت پسندوں سے مقابلہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے اور اگر وہ تمام عناصر ختم کردئیے جائیںگے تو صدر #بشار_الاسد کی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوگا۔

روحانی نے #اقوام_متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر #نیویارک میں امریکی تھنک ٹینکس اور صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا "اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ شامی حکومت کو اصلاحات کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں اصلاحات کی گنجائش موجود ہے۔" مگر ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے اتحادی بشار الاسد کو ہٹانے سے شام انتہاپسندوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا۔

علاوہ ازیں #ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایرنا' کا کہنا تھا کہ روحانی نیویارک کا دورہ مختصر کرکے جلد #تہران واپس آجائیں گے تاکہ وہ سعودی عرب میں پیش آںے والے افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے ایرانیوں کے جنازے میں شرکت کرسکیں۔

ایرنا نے روحانی کے دفتر کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا بیان نقل کیا ہے کہ "روحانی کی کچھ ملاقاتیں اور پروگرامات کو منسوخ کردیا جائیگا اور وہ پیر کی دوپہر کو تہران واپس آجائینگے۔"

اس سے پہلے روحانی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ داعش کی شکست کے بعد ہی شام میں جنگ کے بعد کی صورتحال پر قابو پانے کے پلان پر بات کرنے پر تیار ہوں گے۔ ایران کو ابھی تک اقوام متحدہ کی جانب سے شام میں کسی سیاسی حل کی تلاش کی کوششوں میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

روحانی نے ایک ریڈیو کو انٹرویو میں بتایا کہ "ہمارے لئے اس وقت دہشت گردوں کی شکست کے بعد کا منصوبہ تیار کرنے کے لئے مذاکرات اور بات چیت کے عمل کو شروع کرنا ترجیح نہیں رکھتا ہے۔ مگر ہمیں تمام قوتوں کو یکجا کرکے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کا ایک منصوبہ تیار کرنا ہوگا۔"

ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ ان کا ملک وہ کسی بھی آپشن پر بات کرنے کو تیار ہیں اور شامی حکومت کو کسی بھی منصوبے میں شامل کرنا ضروری ہے۔

مغربی طاقتیں شام میں #روس کی جانب سے فوجی طاقت بڑھانے کے بعد ایک نئی حکمت عملی میں ایران کو بھی شامل کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ مستقبل کی کسی سیاسی تبدیلی کو کنٹرول کیا جاسکے۔

روحانی نے کسی بھی عبوری سیٹ اپ کے دوران الیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شامی عوام کے پاس ملک کے مستقبل میں سب سے اہم کردار ہونا چاہئیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں