.

"داعش کی شکست کے لیے شام میں نئی قیادت ناگزیر ہے"

تیل کی قیمتوں میں کمی نے جنگ پر منفی اثر ڈالا: عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر #براک_اوباما نے کہا ہے کہ #شام اور #عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی #داعش کو شکست فاش سے دوچار کرنے اوراس کے نیٹ ورک کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے #شام میں صدر #بشار_الاسد کی جگہ متبادل قیادت ناگزیر ہے۔

وہ #اقوام_متحدہ کے فورم پر انسداد دہشت گردی کے حوالے سے منعقدہ سربراہ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے عالمی برادری یکجا ہو رہی ہے۔

انہوں نے داعش کے خلاف جنگ میں #`ترکی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ انقرہ کی حمایت سے شمال مشرقی شام میں داعش کے نیٹ ورک کو غیرمعمولی نقصان سے دوچار کیا گیا ہے۔

عراق کےحوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ موجودہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ملک میں امن وامان اور استحکام کے لیے اہم اور فعال اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش کو نظریاتی میدان میں شکست دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دوسرے لوگوں کی ذہن سازی کرکے اپنی صفوں میں شامل نہ کر سکے۔

صدر اوباما کے بہ قول داعش نے غربت سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو ورغلایا۔ غربت کے مارے لوگوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنا زیادہ آسان ہے اور غریب لوگ ہی داعش میں شامل ہورہے ہیں۔ دنیا کو داعش جیسے گروپوں کو فیصلہ کن شکست دینے کے لیے غربت کا خاتمہ کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔

'تیل کے نرخوں میں کمی سے داعش کے خلاف جنگ متاثر'

#نیویارک میں امریکی صدر کی زیرصدارت منعقدہ انسداد دہشت گردی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراق کے وزیراعظم #حیدر_العبادی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی کردار کی تعریف کی تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ تیل کی قیمتیں گرنے کے نتیجے میں داعش کے خلاف جنگ میں سرمایہ کاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی مدد سے عراقی فوج نے کئی شہروں کو داعش کےقبضے سے چھڑا لیا۔ تکریت سے داعش کا قبضہ ختم کرانے کے بعد ہزاروں لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹے ہیں۔ العبادی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ان تمام سر چشموں کو بھی ختم کرنا ہو گا جو دہشت گردی کے فروغ کا کسی نہ کسی شکل میں ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ حکومتی اداروں میں اصلاحات کے نتیجے میں بھی عراق میں استحکام آیا ہے۔ ہم نے کرپشن کے خاتمے کے لیے اصلاحاتی پیکج جاری کیا اور 50 ہزار بوگس فوجیوں کو فارغ کیا گیا ہے۔