.

افغان فورسز کا طالبان سے لڑائی کے بعد قندوز پر دوبارہ کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان فورسز نے طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ تین دن کی لڑائی کے بعد تزویراتی اہمیت کے حامل شمالی شہر قندوز پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

طالبان نے تین روز پہلے افغان فورسز کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد قندوز پر قبضہ کر لیا تھا۔ان کی مختصر وقت کے لیے اس جنگی کامیابی کو نیٹو کی تربیت یافتہ افغان قومی فوج کے لیے ایک بڑا دھچکا قراردیا جارہا ہے۔

افغان فورسز جمعرات کی صبح قندوز کے وسط میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔شہر کے مکینوں نے بتایا ہے کہ لڑائی کے بعد گلیوں اور بازاروں میں طالبان کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ شہر میں ابھی لڑائی جاری ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان صدق صدیقی نے ٹویٹر پر اطلاع دی ہے کہ ''افغان اسپیشل فورسز نے قندوز شہر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔اب اس کو دہشت گردوں سے پاک کیا جارہا ہے اور لڑائی میں دشمن کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے''۔

افغانستان کے نائب وزیرداخلہ ایوب سالانگی نے بھی سرکاری فوج کی رات ''خصوصی کارروائی'' کے بعد شہر پر دوبارہ قبضے کی اطلاع دی ہے۔مقامی مکینوں نے بتایا ہے کہ رات بھر تباہ کن بمباری ہوتی رہی ہے جس سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی اور طالبان بعض علاقوں میں ابھی تک مزاحمت کررہے ہیں۔

افغان فوجیوں نے شہر کے مرکز میں طالبان کا سیاہ اور سفید رنگ پر مشتمل پرچم اتار دیا ہے اور اس کی جگہ قومی پرچم لہرا دیا ہے۔طالبان کے قندوز پر قبضے کے بعد شہر میں افراتفری پھیل گئی تھی اور ہزاروں مکینوں نے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا شروع کردیا تھا۔