.

اقوام متحدہ میں فلسطینی پرچم لہرا دیا گیا، فلسطین میں جشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#اقوام_متحدہ کے #نیویارک میں قائم صدر دفتر میں تاریخ میں پہلی بار فلسطینی پرچم لہرا دیا گیا۔ فلسطینی پرچم کشائی کی علامتی اعتبار سے خود مختار فلسطینی ریاست کی طرف اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کل بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے مرکزی داخلی راستے پر 193 ملکوں کے قومی پرچموں میں سرخ، سیاہ، سفید اور سبز رنگ کا فلسطینی پرچم بھی لہرایا گیا۔ پرچم لہرانے کی تقریب میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ #محمود_عباس اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل #بان_کی_مون سمیت کئی عالمی رہ نما بھی موجود تھے۔ فلسطینی پرچم لہرانے کی تقریب سے قبل جنرل اسمبلی میں اس حوالے سے رائے شماری کا اہتمام کیا گیا۔ جنرل اسمبلی کے ارکان کی اکثریت نے #فلسطین کا قوم پرچم اقوام متحدہ کی زینت بنانے کی حمایت کی۔

قبل ازیں فلسطینی اتھارٹی کے امریکی اخبار "ہفنگٹن پوسٹ" اور انٹرنیٹ بلاگز پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں بھی انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بدھ 30 ستمبر فلسطینی تاریخ کا اہم ترین دن ہوگا جب فلسطین کا قومی پرچم نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر اور اور دنیا بھر میں اس کے ذیلی ذیلی اداروں میں لہرایا جائے گا۔

صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ آج فلسطینی قوم کو اپنا سر فخر سے بلند کرنا چاہیے کہ کہ دنیا فلسطینی قومی پرچم کو اقوام متحدہ کے فورم پر شامل کرنے کے لیے رائے شماری کرنے جا رہی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم بین الاقوامی برادری کے پرچموں کے ساتھ اپنا پرچم لہرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ میں نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں بار دگر واضح کیا ہے کہ فلسطینی ایک قوم ہیں۔ آزادی کے لیے مطالبے، بنیادی حقوق کے حصول اور اسرائیلی مظالم کے خاتمے کے مطالبے میں ہم تنہا نہیں ہیں۔

فلسطینی عوام نے اپنا قومی پرچم اقوام متحدہ میں لہرائے جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔ پرچم لہرانے کی تقریب کو فلسطین کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر براہ راست دکھایا گیا۔ اس موقع پر فلسطین میں بھی اونچی عمارتیں اور بلند مقامات پر فلسطینی پرچم لہرایا گیا تھا۔

'جانوں کے نذرانے دے کر پرچم لہرایا گیا'

فلسطین کے ایک سرکردہ صحافی ایاد حمد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے فلسطینی پرچم لہرانے سے متعلق کہا کہ "اقوام متحدہ کے فورم پر فلسطینی پرچم لہرانے پر مجھے بہت خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے۔ آج میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے وطن کا پرچم بھی اقوام متحدہ میں پھڑپھڑا رہا ہے۔ یہ پرچم ان ہزاروں فلسطینیوں کی قربانیوں کا ثمر ہے جنہوں نے وطن کی آزادی اور قومی پرچم کو سربلند رکھنے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ان ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی قربانیوں کا ثمر ہے جنہوں نے اپنی جوانیاں صہیونی ریاست کی جیلوں میں سلاخوں کے پیچھے گذار دیں۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی پرچم لہرائے جانے کا واقعہ کوئی اچانک نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے فلسطینی قوم کی قربانیوں اور جدو جہد کی ایک طویل داستان ہے۔ایک وقت تھا کہ ہم بجلی کے کھمبے پربھی فلسطینی پرچم نہیں لہرا پاتے تھے۔ فلسطینی قوم کی قربانیاں رنگ لائی ہیں اور آج فلسطین کا قومی پرچم اقوام متحدہ میں بھی لہرایا گیا ہے۔

فلسطینی پرچم لہرانے پراسرائیلی پابندیاں

فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی پرچم لہرانے پر پابندیوں کا سلسلہ بھی طویل ہے۔ اسرائیلی قوانین کے تحت سنہ 1994ء میں طے پائے اوسلو معاہدے سے قبل تک فلسطینیوں کو اپنا قومی پرچم لہرانے کی اجازت نہیں تھی۔ اوسلو سمجھوتے کے بعد محدود پیمانے پر فلسطینی اتھارٹی کے انتظامی کنٹرول والےعلاقوں میں فلسطینی پرچم لہرانے کی اجازت دی گئی۔

ایک مقامی صحافی اکرم النجار نے بتایا کہ ایک وقت تھا کہ ہم لوگ اپنا قوم پرچم اپنے گھروں کی چھتوں پر بھی نہیں لہرا سکتے تھے۔ ہمارے گھر میں فلسطین کا قومی پرچم تھا اور میں نے اسے پتھر کی دیوار میں چھپا رکھا تھا۔ ہم اسے صرف اس وقت باہر نکالتے جب اسرائیل کے خلاف کوئی احتجاجی مظاہرہ کرنا ہوتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی قوم پرچم اس قدر نایاب چیز تھی کہ اس کا حصول بھی مشکل تھا۔ اگر کسی فلسطینی کے پاس قومی پرچم پکڑا جاتا تو صہیونی فوجی اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے۔

آج فلسطین کا قومی پرچم اقوام متحدہ کے فورم پر لہرانے لگا ہے۔ اس علامتی اقدام سے جہاں فلسطینی قوم کوایک نیا حوصلہ ملا ہے وہیں اسرائیل کو بھی ایک نئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ یہ فلسطینی قوم کی ایک علامتی کامیابی ہے۔ تاہم ضمنی طورپر عالمی برادری کا یہ آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان ہے۔