.

ترکی: دو فوجی ڈیوٹی پر جاتے ہوئے فائرنگ سے ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب مشرقی صوبے دیاربکر میں علاحدگی پسند کرد جنگجوؤں نے فائرنگ کرکے دو فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

ترکی کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ دیاربکر کے قصبے سلوان میں دونوں فوجی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے جارہے تھے۔اس دوران کرد باغیوں نے انھیں اپنی گولیوں کا نشانہ بنا دیا ہے۔

ترک حکومت اور علاحدگی پسند جنگجو گروپ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) کے درمیان جولائی میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور کم وبیش روزانہ ہی کرد باغیوں اور ترک سکیورٹی فورسز کے درمیان ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں جھڑپیں ہورہی ہیں یا پھر کرد باغی سکیورٹی فورسز پر بم حملے کررہے ہیں۔گذشتہ اڑھائی تین ماہ کے دوران ان حملوں میں سکیورٹی فورسز کے ایک سو سے زیادہ اہلکار ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ پی کے کے اور انقرہ حکومت کے درمیان سنہ 2012ء کے آخر میں امن سمجھوتے پراتفاق ہوا تھا جس کے تحت کرد باغیوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے روک دیے تھے اور ان کے خلاف ترک فوج نے بھی مہم بند کردی تھی لیکن اس کے بعد ترک حکومت اور کردوں کے درمیان امن مذاکرات میں گذشتہ تین عشروں سے جاری اس تنازعے کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔1980ء کے عشرے سے جاری اس خونریزی میں پینتالیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔