.

'روس نے شام میں کارروائیوں سے قبل امریکا کو متنبہ کیا تھا'

حملے کی جگہ پر داعش کی نشاندگی امریکا نے کی تھی: روسی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سینئر روسی فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ #روس نے #شام میں فضائی حملوں سے قبل #امریکا کو خبردار کیا تھا اور اسے تجویز دی تھی کہ وہ روسی فضائیہ کے آپریشن والے علاقوں میں اپنے جہازوں کی پروازیں روک دے۔

روسی فوج کے جنرل سٹاف سے تعلق رکھنے والے آندرے کارتاپولو کا کہنا ہے کہ روس کی فضائیہ نے شام میں کی جانیوالی فضائی کارروائیوں میں انتہاپسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام #داعش کی 50 املاک کو نشانہ بنایا ہے۔

آندرے نے روس کی سرکاری نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے مزید کہنا تھا "ہم نہ صرف یہ حملے جاری رکھیں گے بلکہ ہم ان کی شدت میں بھی اضافہ کریں گے۔"

"کارتاپولو نے روس کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والے علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ "امریکیوں نے ہمارے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ اس علاقے میں دہشت گردوں کے علاوہ کوئی بھی موجود نہیں ہے۔"

روسی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار ایگور کوناشینکوو کا کہنا تھا روس کے شام میں جاری آپریشن میں SU-34 اور SU-24M فائٹر طیاروں نے حصہ لیا۔

سخت تنقید

روس کی شام میں جاری مہم اس مہم کو امریکا اور اس کے اتحادیوں جن میں سعودی عرب اور برطانیہ بطور خاص شامل ہیں، کی شدید تنقید کا سامنا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ روس کی شام میں جاری فضائی مہم کے دوران ہر 20 کارروائیوں میں سے ایک میں داعش کی املاک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہورہا ہے۔

برطانوی روزنامے دی سن کو انٹرویو کے دوران برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالون کا کہنا تھا کہ روس کی کارروائیوں میں سے اکثر میں داعش کو نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے۔

شہریوں کا نقصان

شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم شامی آبزرویٹری کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے پچھلے چار روس سے جاری فضائی کارروائیوں کے دوران کم ازکم 39 شہری جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں آٹھ بچے اور آٹھ ہی خواتین بھی شامل تھیں۔

آبزرویٹری کے مطابق ان حملون میں 14 جنگجو بھی مارے گئے جن میں 12 جنگجو داعش جبکہ دیگر دو جنگجو القاعدہ نواز گروپ النصرہ محاذ سے تعلق رکھتے تھے۔ آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ ان اعداد وشمار میں صرف ان لوگوں کا حوالہ ہے جن کی شناخت ہوچکی ہے۔