.

روس شام میں سنگین غلطی کا مرتکب ہو رہا ہے: ایردوآن

شام میں روس کی فضائی مہم ترکی کے لیے بالکل ناقابل قبول اور پریشان کن ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے خبردار کیا ہے کہ روس شام میں سنگین غلطی کا مرتکب ہورہا ہے اور اس کی فضائی مہم بالکل ناقابل قبول ہے۔

وہ اتوار کو استنبول کے ہوائی اڈے پر فرانس کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ''روس کے شام میں اقدامات اوراس کی بمباری کی مہم ترکی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔بدقسمتی سے روس سنگین غلطی کررہا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ روس کے ساتھ ترکی کے دوستانہ تعلقات کے باوجود اس کے شام میں اقدامات ہمارے لیے پریشان کن ہیں اور ان کے نتیجے میں روس کو خطے میں تنہائی کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

روس اور ترکی شام میں جاری بحران کے حوالے سے متضاد مو٘قف رکھتے ہیں۔روس صدر بشارالاسد کا خانہ جنگی چھڑنے کے بعد سے سب سے بڑا پشتی بان ملک ہے جبکہ ترکی بحران کے حل کے لیے ان کی اقتدار سے علاحدگی کا مطالبہ کررہا ہے۔ترک قیادت کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کا شام کے مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہے۔

ایردوآن نے نیوزکانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ''یہ صرف روس ہی نہیں بلکہ ایران بھی بشارالاسد کا دفاع کررہا ہے حالانکہ وہ شام میں ریاستی دہشت گردی کو بروئے کار لارہے ہیں''۔روس کی طرح ایران بھی شامی صدر کی مسلسل حمایت کررہا ہے۔

روس کے لڑاکا طیارے گذشتہ بدھ سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ ترکی اور امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک اس فضائی مہم کی مخالفت کررہے ہیں۔ان ممالک کا کہنا ہے کہ روسی طیارے اپنے فضائی حملوں میں داعش کے ٹھکانوں کو ہدف بنانے کے بجائے شامی حزب اختلاف سےوابستہ باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ روسی طیاروں نے اپنے فضائی حملوں میں عام شہریوں اور امریکا کے تربیت یافتہ اعتدال پسند شامی باغیوں پر بمباری کی ہے حالانکہ انھیں داعش کے خلاف لڑائی کے کے لیے تربیت دے کر شام بھیجا گیا ہے۔دوسری جانب روس کا موقف ہے کہ اس کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اوربمباری میں اس سخت جنگجو گروپ کی متعدد تنصیبات کو تباہ کردیا گیا ہے۔