.

شام: روسی طیاروں کی داعش کے 10 اہداف پر بمباری

ادلب اور الرقہ میں داعش کے ٹھکانوں اور کمان اور کنٹرول سسٹم کو تباہ کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے دس ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

روس کی وزارت دفاع نے اتوار کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''ہمارے فضائی حملوں کے نتیجے میں دولت اسلامیہ (داعش) کے کنٹرول سسٹم اور اس کی سپلائی لائن تباہ ہو گئی ہے اور اس کے دہشت گردی کی کارروائیوں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے ڈھانچے کو بھی نمایاں نقصان پہنچا ہے''۔

وزارت دفاع کے مطابق روس کے ایس یو 34 ،ایس یو 24 ایم اور ایس یو 25 طیاروں نے صوبہ ادلب اور الرقہ میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور اس کے دہشت گردی کے کیمپوں اور خودکش جیکٹس بنانے والی ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ان حملوں میں داعش کے اسلحے کے ڈپوؤں اور چار کمان مراکز کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔

روسی طیارے گذشتہ بدھ سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ ترکی اور امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک اس فضائی مہم کی مخالفت کررہے ہیں۔ان ممالک کا کہنا ہے کہ روسی طیارے اپنے فضائی حملوں میں داعش کے ٹھکانوں کو ہدف بنانے کے بجائے شامی حزب اختلاف سےوابستہ باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

ترکی ،امریکا ،برطانیہ ،فرانس ،جرمنی اور خلیجی عرب اتحادیوں نے جمعہ کوایک مشترکہ بیان میں روس کے شام میں فضائی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے تنازعے کی شدت میں اضافہ ہوگا اور انتہاپسندی کو فروغ ملے گا۔انھوں نے روس سے فوری طور پر شام میں فضائی حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔