.

شام میں صرف فوجی کوششوں سے جنگ ختم نہیں ہوگی:مرکل

تنازعے کے خاتمے کے لیے اسد حکومت کو مذاکرات میں شریک کرنے کی ضرورت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے کہا ہے کہ شام میں فوجی کوششیں درکار ہیں لیکن ان سے گذشتہ ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

اینجیلا مرکل نے ایک جرمن ریڈیو کے ساتھ اتوار کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ انھوں نے گذشتہ جمعہ کو پیرس میں روسی صدر ولادی میرپوتین کے ساتھ شام میں جاری بحران کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''میں نے شام سے متعلق پہلی مرتبہ کہا ہے کہ ہمیں فوجی کوششیں درکار ہیں لیکن صرف ان فوجی کاوشوں سے بحران حل نہیں ہوگا،اس کے لیے ہمیں ایک سیاسی عمل درکار ہے مگر فی الوقت یہ بہتر طریقے سے نہیں چل رہا ہے''۔

جرمن چانسلر نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ شامی بحران کے حل کے لیے صدر بشارالاسد کی حکومت سے بھی بات چیت کی جانی چاہیے۔اسد حکومت کو مذاکرات میں شریک کرنے کی ضرورت کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ''اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بشارالاسد کے مرتب کردہ تباہ کن اثرات اوراپنی ہی آبادی کے خلاف بیرل بموں کے حملے سے آنکھیں موند لی ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''کسی سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے شامی حزب اختلاف کے نمائںدوں اور دمشق کے موجودہ حکمرانوں کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیئں۔اس کے علاوہ متعلقہ گروپوں کے اتحادیوں کو بھی مذاکرات میں شریک کیا جانا چاہیے تاکہ حقیقی کامیابی حاصل کی جاسکے''۔

اینجیلا مرکل نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اس طرح کا عمل جلد شروع ہوجائے گا اور روس ،امریکا ،سعودی عرب اور ایران کے علاوہ جرمنی ،فرانس اور برطانیہ تنازعے کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انھوں نے چند روز قبل بھی یہی بات کی تھی جس سے عیاں ہے کہ بعض مغربی ممالک اپنے اتحادی امریکا کے موقف کے برعکس شامی تنازعے کے حل کے لیے بشارالاسد سے مذاکرات کے حامی ہیں۔البتہ انھوں نے فوجی کوششوں کی ضرورت پر بھی زوردیا ہے۔تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ فوجی کوششیں صدر اسد کی وفادار فوج کے خلاف درکار ہیں یا داعش کے خلاف جنگ کو تیز کیا جانا چاہیے۔

جرمنی اس وقت شام میں داعش کے خلاف فضائی مہم میں شریک نہیں ہے۔البتہ وہ پڑوسی ملک عراق میں کرد فورس البیش المرکہ کو تربیت دے رہا ہے اور اسلحہ مہیا کررہا ہے۔اس کے لڑاکا طیارے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کی داعش مخالف مہم میں شریک نہیں ہیں۔

شامی وزیرخارجہ ولیدالمعلم نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''ان کے ملک میں جاری بحران کا خاتمہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے ممکن نہیں ہوگا اور کسی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ جو کچھ میدان جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں،وہ مذاکرات کی میز پر حاصل کرسکتے ہیں''۔