.

شام میں ناکامی، ایرانی جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

حسین ہمدانی شام کے لیے لاجسٹک سپورٹ کے انچارج مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران کے ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ #شام میں # پاسداران_انقلاب کے لڑاکا فوجیوں کے سربراہ میجر جنرل حسین ھمدانی کو باغیوں کے خلاف عسکری کارروائیوں میں ناکامی کی بناء پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں اصلاح پسندوں کی مقرب خبر رساں ایجنسی" سحام نیوز" نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ میجر جنرل حسین ہمدانی کو پاسداران انقلاب کے ملٹری انٹیلی جنس چیف حسین طائب کے مطالبے اور دبائو پر عہدے سے سبکدوش کیا گیا ہے۔ حسین طائب کا شام میں #بشار_الاسد کے دفاع کے لیے #پاکستان، #افغانستان اور #عراق کے جنگجوئوں کو بھرتی کرنے اورانہیں شام روانہ کرنے میں کلیدی کردار سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سبکدوش جنرل حسین ھمدانی کا شمار ایران کے "فیلڈ وار" کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ ھمدانی ماضی میں پاسداران انقلاب کی "کور27" کی قیادت کر چکے ہیں۔ انہیں شام میں پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کا نگران بھی مقرر کیا گیا تھا۔

حسین ھمدانی ماضی میں پاسداران انقلاب کے ملٹری انٹلی جنس کے بیرون ملک آپریشنل چیف کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ جب سے ان کے ملٹری انٹیلی جنس چیف جنرل حسین طائب کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے توانہوں نے عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ دونوں فوجی عہدیداروں کے درمیان اختلافات اس وقت پیدا ہوئے تھے جب حسین طائب نے وزارت برائے سراغ رسانی کے ایک سینیر عہدیدار سعید امامی کی اہلیہ سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ مسٹر امامی پر الزام تھا کہ وہ سابق صدر محمد حاتمی کے دور حکومت میں دانشوروں، شاعروں اور حکومت مخالف صحافیوں سمیت اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہا ہے۔ ان الزامات کے بعد اسے ملازمت سے برطرف کرکے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

حسین ہمدانی کے ساتھ بیرون ملک آپریشنل عسکری کارروائیوں میں معاونت کرنے والوں میں ایک اہم نام جنرل #قاسم_سلیمانی کا بھی ہے۔ جنرل سلیمانی "القدس فورس" کے سربراہ ہیں۔ جنرل #حسین_ہمدانی نے قاسم سلیمانی کو بیرون ملک بالخصوص شام میں سرگرم افغان جنگجوئوں پر مشتمل تنظیم " فاطمیون" ، پاکستانیوں پر مشتمل "زینبیون بریگیڈ" اور عراق و لبنانی حزب اللہ کا نگراں مقرر کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ میجر جنرل حسین ھمدانی کو شام میں ان کی ناکامی کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ انہیں شام میں عسکری کارروائیوں کے انچارج کےعہدے سے ہٹا کر مسلح افواج کے شام میں لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں جب سے روس نے شام میں فوجی کارروائی کا آغاز کیاہے کہ ایران سے سیکڑوں جنگجوئوں کے سرزمین شام میں پہنچنے کی اطلاعات آئی ہیں۔ تاہم ایرانی حکومت کی طرف سے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔