.

متشدد سعودی مبلغین کی شامی جنگ میں شرکت کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد اور روسی فوج کے خلاف لڑائی پر اکسانے والے 52 سخت گیر سعودی مبلغین اور علماء نے شام میں جنگ کے لیے "نفیر"عام کا اعلان کرتے ہوئے مسلمان شہریوں سے روسی افواج کے خلاف 'جہاد' میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں روسی فوج اور شامی صدر بشارالاسد کے خلاف لڑائی پر اکسانے والے 52 علماء اور مبلغین نے انٹرنیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا ہے کہ "شام کا میدان جنگ سعودی شہریوں کو جہاد کے لیے پکار رہا ہے۔ تمام مسلمانوں بالخصوص سعودی شہریوں کا فرض ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلیں اور شام میں داخل ہونے والی روسی افواج کے خلاف اورعسکری تنظیموں کے شانہ بہ شانہ 'جہاد' میں حصہ لینے کے لیے سر زمین شام میں پہنچیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام شہری جو شام میں پہنچ کر 'جہاد' میں حصہ لینے کی طاقت رکھتے ہیں آج ہی سےشام کے لیے رخت سفر باندھیں۔ جو قوم جہاد کا راستہ ترک کر دیتی ہے اللہ اس پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دیتا ہے۔ اس لیے آگے بڑھو، اپنے اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرو۔ اللہ تمہاری، تمام مسلمانوں اور تمہاری پشتیبانی کرنے والوں کو فتح و کامرانی عطا کرے گا۔ بلا شبہ فتح عنقریب ملنے والی ہے۔

بیان میں سعودی عرب کے شہریوں کو خاص طور پر اور خلیجی ممالک اور پوری مسلم امہ کے نوجوانوں کو عمومی طور پر مخاطب کیا گیا ہے اور انہیں شام کے محاذ جنگ میں پہنچنے کی اپیل کی گئی ہے۔ بیان میں شدت پسند مبلغین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جس طرح افغانستان میں سوویت یونین کے قبضے کے بعد پوری دنیا سے مسلمان نوجوان القاعدہ اور طالبان کی مدد کو افغانستان میں پہنچے تھے۔ اسی طرح آج ہمیں شام کا میدان جنگ بلا رہا ہے۔

سعودی مبلغین کی جانب سے شام میں بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے تمام عسکری گروپوں سے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے، اپنی صلاحیتوں کو مجتمع کرکے دشمن کے خلاف استعمال کرنے پر زور دینے کے ساتھ ساتھ شام کا محاذ نہ چھوڑنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

بیان میں شام میں جاری لڑائی کو "مقدس مذہبی جنگ" قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ شام میں جاری جنگ اسلام کے خلاف جنگ ہے۔ تمام عالم اسلام پر اس جنگ میں دشمن کے خلاف لڑنا فرض ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے شدت پسند مبلغین کی جانب سے شام میں محاذ جنگ میں حصہ لینے کا یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب گذشتہ روز سعودی پولیس نے دارالحکومت ریاض سے بم تیار کرنے والی ایک فیکٹری پکڑی ہے، جسے مبینہ طور پر ایک شامی مرد اور ایک فلپائنی خاتون چلا رہے تھے۔

سعودی فیصلے کی خلاف ورزی

سعودی عرب کے شدت پسند خیالات و نظریات کے حامل مبلغین کی جانب سے شام کی عسکری تنظیموں میں شمولیت کا فیصلہ سنہ 2014ء میں سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایک سال پیشتر سعودی عرب کی حکومت نے شام میں القاعدہ کی ذیلی تنطیموں النصرہ فرنٹ، داعش، اخوان المسلمون، سعودی حزب اللہ[الحجاز]، یمن کے حوثیوں اور جزیرۃ العرب میں سرگرم القاعدہ کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے ساتھ تعاون کرنے یا ان میں شمولیت کو سنگین جرم قرار دیا تھا۔

سعودی حکومت کے فیصلے کے تحت اندرون، بیرون ملک، خطے میں یا پوری دنیا میں کہیں بھی سرگرم انتہاپسند گروپوں کے ساتھ نظریاتی وابستگی اور ان کی تائید وحمایت کی کڑی سزا مقرر کی گئی تھی۔

سعودی عرب کی حکومت نے مختلف مکاتب فکر کے علماء کو انفرادی طور پر فتوے جارے کرنے سے بھی سختی سے منع کرتے ہوئے فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے والوں کو بھی سنگین نتائج کی تنبیہ کی تھی۔

حذیفہ عزام سے تعلق

سعودی عرب کے جن 52 شدت پسند مبلغین کی جانب سے مشترکہ بیان پر دستخط کیے ہیں۔ ان میں سے بعض کا براہ راست اور بعض کا بالواسطہ طور پر تعلق القاعدہ کے سابق رہ نما ڈاکٹر عبداللہ عزام کے اردن میں مقیم صاحبزادے خذیفہ عبداللہ عزام کے ساتھ بھی ہے۔

اگرچہ خذیفہ عزام خود تو شام کے عسکری گروپوں کے ساتھ رابطے میں نہیں ہیں تاہم وہ مختلف مواقع پر عسکری گروپوں میں پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے مصالحی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے دمشق میں ایک عرب ٹیلی ویژن کی خاتون نیوز کاسٹر کی جیش الاسلام نامی گروپ کے ہاں یرغمال بنائی گئی والدہ کی بازیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

انٹرنیٹ پرشام کے محاذ جنگ میں پہنچنے کی ترغیب پر مبنی بیان کو فالو کرنے والوں میں اسامہ بن لادن اور عبداللہ عزام کے ایک استاد ڈاکٹر محمد موسیٰ الشریف کا نام بھی شامل ہے۔

اسی نوعیت کا ایک بیان عالمی اتحاد العلماء کی جانب سے جاری بھی جاری کیا جا چکا ہے جس میں تمام مسلمانوں سے شام میں سرگرم عسکری گروپوں کی مادی اور معنودی مدد کی اپیل کی گئی ہے۔