.

اردنی رکن پارلیمنٹ کے بھائی کا مصری شہری پر وحشیانہ تشدد

قاہرہ کا واقعے پر سخت احتجاج، تحقیقات شروع کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#اردن کے ایک رکن پارلیمنٹ کے بھائی کے ہاتھوں #وادی_العقبہ میں ایک مصری شہری پر وحشیانہ تشدد کے واقعے کے بعد #مصر نے اردن سے سخت احتجاج کرتے ہوئے اپنے شہری سے بدسلوکی کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج سامنے آئی تھی جس میں اردنی رکن پارلیمنٹ زید الشوابکہ کے بھائی اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے ایک مصری کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے دکھایا گیا تھا۔

العقبہ میں مصری قونصل جنرل اور قاہرہ میں مصری سفارت خانے کے وکیل نے تشدد کا شکار ہونے والے شہری کی قانونی معاونت اور واقعے کی انکوائری کے لیے اردنی حکومت کے ساتھ رابطے کیے ہیں۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک فوٹیج میں دکھائے گئے مصری شہری کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ العقبہ میں ہوٹل میں کام کے دوران ایک شخص اور اس کے ساتھیوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ مارنے والے اردنی نے اپنی شناخت رکن پارلیمنٹ زید شوابکہ کے بھائی کے طور پر کی تھی۔

بعد ازاں مصری شہری نے مقامی پولیس کو واقعے سے متعلق آگاہ کیا۔ پولیس نے بھی اس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اردن میں موجود مصر کے سفارتی عملے نے شہری کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی اس کی جامع تحقیقات پر زور دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پربھی اردنی سیاست دان کے بھائی کی اس حرکت پر عوام الناس نے سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے بد معاشی کے مرتکب شخص کو سخت سز ادینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اردنی رکن پارلیمنٹ زید الشوابکہ نے سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے کسی مصری شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

اردنی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک مصری شہری اور اردنی رکن پارلیمنٹ کے بھائی کے درمیان ہوٹل میں تو تکار ہوئی جس پر اردنی نے مصری کو گالی دے دی۔ اس پر دونوں آپس میں الجھ پڑے۔ اردنی رکن پارلیمنٹ کے بھائی نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے مصری شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

زید شوابکہ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بھائی کے ہاتھوں مصری شہری کے ساتھ بدسلوکی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اس حرکت پر میرے بھائی کو مصری نوجوان سے معافی مانگنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔