.

روس شامی حزب اختلاف پر فضائی حملے بند کرے:نیٹو

روسی فوج شامی شہریوں پر حملے نہیں، داعش کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوزکرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو نے روس سے کہا ہے کہ وہ شام میں دولتِ اسلامیہ عراق وشام(داعش) کے خلاف فوجی کارروائیوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور شامی حزب اختلاف اور عام شہریوں پر حملے بند کرے۔نیٹو نے روس کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی بھی شدید مذمت کی ہے۔

نیٹو کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ترکی کی فضائی حدود میں دراندازی بہت ہی خطرناک تھی۔فوجی اتحاد روس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شامی حزب اختلاف اور شہریوں پر تمام حملے روک دے''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ''اتحادی ترکی کی خودمختار فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج کرتے ہیں اور وہ نیٹو کی فضائی حدود میں دراندازی کی مذمت کرتے ہیں۔اتحادیوں نے اس طرح کے غیر ذمے دارانہ طرزعمل سے لاحق سنگین خطرے کو بھی نوٹ کیا ہے''۔

''اتحادی روسی فیڈریشن پر زوردیتے ہیں کہ وہ اس طرح کی کارروائیاں روک دے اور فوری طور پر ان خلاف ورزیوں کی وضاحت کرے''۔نیٹو کی جانب سے اپنے رکن ملک ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر روس کے لیے اب تک یہ سب سے سخت انتباہ ہے۔

روس کے ایک جنگی طیارے نے گذشتہ ہفتے کے روز شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور اس کی حدود میں گھس گیا تھا جس کے بعد ترکی کے دو ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے اس کو گھیرے میں لے کر واپس جانے پر مجبور کردیا تھا۔

روس کے لڑاکا طیارے گذشتہ بدھ سے شام میں مبینہ طور پر داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ ترکی اور امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک اس فضائی مہم کی مخالفت کررہے ہیں۔ان ممالک کا کہنا ہے کہ روسی طیارے اپنے فضائی حملوں میں داعش کے ٹھکانوں کو ہدف بنانے کے بجائے شامی حزب اختلاف سےوابستہ باغی گروپوں کے ٹھکانوں اور عام شہریوں پر بمباری کررہے ہیں۔

امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ روسی طیاروں نے شام میں عام شہریوں اور امریکا کے تربیت یافتہ اعتدال پسند باغیوں پر بمباری کی ہے حالانکہ انھیں داعش کے خلاف لڑائی کے کے لیے تربیت دے کر شامی علاقوں میں بھیجا گیا ہے۔دوسری جانب روس کا موقف ہے کہ اس کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اوربمباری میں اس سخت گیر جنگجو گروپ کی متعدد تنصیبات کو تباہ کردیا گیا ہے۔