.

ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی پر روسی سفیردوبارہ طلب

شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں روسی لڑاکا طیارے کی دراندازی پر سخت احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت خارجہ نے شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں روسی لڑاکا طیارے کی جانب سے دوسری مرتبہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پرانقرہ میں متعیّن روسی سفیر کو طلب کیا ہے اور ان سے سخت احتجاج کیا ہے۔

ایک ترک عہدے دار نے بتایا ہے کہ روسی سفیر کو سوموار کی سہ پہر دوسری مرتبہ طلب کیا گیا تھا اور ان سے ترکی کی فضائی حدود کی اتوار کو دوسری مرتبہ خلاف ورزی پر سخت احتجاج کیا گیا ہے۔ترکی نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے ورنہ روس کو ان کا ذمے دار قرار دیا جائے گا۔

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے گذشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو روس کی ایک غلطی قراردیا تھا۔انھوں نے کہا کہ جو کوئی بھی ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرے گا،تو اس کے ساتھ معاملہ کاری کے لیے قواعد وضوابط بالکل واضح ہیں۔ترک وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پرندہ بھی اڑتا ہواہمارے علاقے میں آئے گا تو اس کو بھی روکا جائے گا۔

ترک فوج نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کے دو لڑاکا جیٹ ایف سولہ طیاروں کو ایک نامعلوم مِگ 29 نے اتوار کو شامی سرحد کے نزدیک ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔اس طیارے کی ملکیتی ملک کا پتا نہیں چل سکا تھا اور اس کا پانچ منٹ چالیس سیکنڈز تک ترک طیاروں سے آمنا سامنا ہوا تھا۔

روس کے ایک جنگی طیارے نے گذشتہ ہفتے کے روز بھی شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں ترکی کی فضائی حدود میں گھس گیا تھا جس کے بعد ترکی کے دو ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے اس کو گھیرے میں لے کر واپس جانے پر مجبور کر دیا تھا۔

روس نے دراندازی کے اس واقعے کے حوالے سے کہا ہے کہ اس کا ایک طیارہ خراب موسمی حالات کی وجہ سے مختصر وقت کے لیے ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے شام کی فضائی حدود میں مختلف ممالک کے لڑاکا طیاروں کی پروازوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس صورت حال سے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس سے ایک مرتبہ پھر شامی تنازعے کے پُرامن حل کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ داعش کے خلاف جو بھی اقدامات کیے جائیں،وہ بین الاقوامی قانون اور عالمی انسانی قوانین کے مطابق ہونے چاہئیں۔

معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو نے برسلز میں سوموار کو ایک ہنگامی اجلاس کے دوران روس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شام میں دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف فوجی کارروائیوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور شامی حزب اختلاف اور عام شہریوں پر حملے بند کرے۔نیٹو نے روس کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی تھی۔