.

تیونس :داعش کے بھرتی سیلوں کا خاتمہ، 11 ریکروٹس گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں پولیس نے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران دولت اسلامیہ عراق وشام(داعش) کے لیے جنگجو بھرتی کرنے والے تین سیلوں کو ختم کردیا ہے اور لیبیا میں داعش میں شمولیت کی کوشش کرنے والے گیارہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

تیونسی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''نیشنل گارڈ کے انسدادِ دہشت گردی یونٹ نے نوجوانوں کو لیبیا بھیجنے والے تین سیلوں کو ختم کردیا ہے''۔

تیونس میں مارچ میں مشہور باردو عجائب گھر پر دو مسلح افراد کے حملے کے بعد سے ہائی الرٹ ہے۔اس حملے میں اکیس غیرملکی سیاح ہلاک ہوگئے تھے۔جون میں ایک مسلح شخص نے جنوبی شہر سوسہ میں سمندر کنارے واقع ہوٹل کے احاطے میں اڑتیس غیرملکیوں کو گولیاں مار ہلاک کردیا تھا۔

داعش نے ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔تیونسی حکام کا کہنا تھا کہ ان تینوں حملہ آوروں کو لیبیا کے سرحدی علاقے میں جنگی تربیت دی گئی تھی۔

گذشتہ ماہ تیونس کی سکیورٹی فورسز نے لیبیا کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں بارود سے بھری دو کاریں اور ہتھیار پکڑے تھے۔جولائی میں تیونسی حکومت نے لیبیا کے ساتھ سرحد پر ایک دیوار کی تعمیر شروع کی تھی جس کا مقصد لیبیا سے تیونسی علاقے میں جنگجوؤں کو داخل ہونے سے روکنا ہے۔

حکومت کے مطابق اس وقت تین ہزار سے زیادہ تیونسی شہری شام،عراق اور لیبیا میں داعش کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔ان میں سے بعض نے تیونس میں واپسی کی صورت میں حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے۔