.

روس ترکی کی دوستی سے محروم ہوسکتا ہے:ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ انقرہ کی دوستی سے محروم ہوسکتا ہے۔انھوں نے یہ انتباہ روسی جنگی طیاروں کی جانب سے شام کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں ترکی کی فضائی حدود کی دومرتبہ خلاف ورزی کے بعد جاری کیا ہے۔

انھوں نے برسلز میں بیلجیئم کے وزیراعظم چارلس مشعل کے ساتھ منگل کے روز مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ''اگر روس ترکی جیسے ملک کی دوستی سے محروم ہوجاتا ہے تو پھر وہ بہت کچھ کھو دے گا''۔

ان کا موجودہ بحران کے دوران روس کے خلاف یہ پہلا سخت بیان ہے۔انھوں نے روس اور اس کے اتحادی ایران پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کی ریاستی دہشت گردی کو برقرار رکھنے کے لیے کام کررہے ہیں۔

انھوں نے روسی طیاروں کی جانب سے شام میں فضائی مہم کے دوران ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر کہا کہ ''یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ اب اس پر خاموش رہنا ممکن نہیں رہا ہے''۔

طیب ایردوآن نے روس کی اس دراندازی کے خلاف نیٹو اتحاد کے ردعمل کو سراہا ہے۔نیٹو نے سوموار کو ایک بیان میں روسی طیاروں کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی تھی اور روس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شام میں دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف فوجی کارروائیوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور شامی حزب اختلاف اور عام شہریوں پر حملے بند کرے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ''ترکی پر حملہ نیٹو پر حملہ ہے۔اس امر سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہے''۔وہ نیٹو معاہدے کی دفعہ پانچ کا حوالہ دے رہے تھے جس میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے ایک رکن پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

درایں اثناء برسلز میں نیٹو کے ہیڈکوارٹرز میں تعینات روسی سفیرالیگزینڈر گروشکو نے کہا ہے کہ ''مغربی فوجی اتحاد روسی طیارے کی ترکی کے علاقے میں حادثاتی دراندازی کو ماسکو کی شام میں فضائی مہم کو داغدار کرنے کے لیے استعمال کررہا ہے''۔

دوسری جانب نیٹو نے روس کی اس وضاحت کو مسترد کردیا ہے کہ اختتام ہفتہ پر اس کے لڑاکا طیارے ترکی کی فضائی حدود میں غلطی سے داخل ہوئے تھے۔تنظیم نے کہا ہے کہ روس شام میں مزید زمینی دستے بھیج رہا ہے۔روس نے دراندازی کے واقعے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس کا ایک طیارہ ہفتے کے روز خراب موسمی حالات کی وجہ سے مختصر وقت کے لیے ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔اتوار کو ایک اور روسی طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔