.

داعش کا تباہ کن حملہ،یمنی حکومت عدن ہی میں رہے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے اپنے ہیڈکوارٹرز پر تباہ کن حملے کے باوجود عارضی دارالحکومت عدن ہی میں رہے گی۔

یمنی حکومت نے ان تباہ کن حملوں کے ایک روز بعد بدھ کو اپنے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''وہ عارضی دارالحکومت عدن سے اس غیر معمولی مرحلے میں اپنا تاریخی اور قومی کردار جاری رکھے گی تاوقتیکہ تمام ملک کو آزاد نہیں کرالیا جاتا ہے''۔

گذشتہ روز دوخودکش بمباروں نے عدن کے مغربی حصے میں واقع القصر ہوٹل میں یمنی حکومت کے عارضی ہیڈکوارٹرز کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا تھا جس سے متعدد وزراء معمولی زخمی ہوئے ہیں۔البتہ وزیراعظم اور نائب صدر خالد بحاح اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔بم دھماکے میں دو سرکاری محافظوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

عدن ہی میں دو اور خودکش بم حملوں میں عرب فوجی اتحاد کی قائم کردہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔عرب اتحاد نے خودکش بم حملے میں ایک سعودی اور تین اماراتی فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔یمنی حکومت کے ذرائع نے دونوں حملوں میں پندرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

داعش نے ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور آن لائن جاری کردہ بیان کے ساتھ چار خودکش بمباروں کی تصاویر اور نام بھی شائع کیے ہیں۔داعش کا یمنی حکومت اور اس کی اتحادی عرب فورسز کے خلاف یہ پہلا تباہ کن حملہ ہے۔اس سے پہلے داعش کے خودکش بمبار دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں یا اہل تشیع کی مساجد کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتے رہے ہیں۔

داعش کے بیان کے مطابق دو حملہ آوروں نے بارود سے لدی گاڑیوں کو القصر ہوٹل میں دھماکوں سے اڑایا تھا۔اس ہوٹل میں یمنی حکومت کے ہیڈکوارٹرز واقع ہیں۔داعش نے ان دونوں خودکش بمباروں کی شناخت ابو سعد العدنی اور ابو محمد الساحلی کے نام سے کی ہے۔