.

شامی جنگ میں روس سے کوئی تعاون نہیں ہوگا:امریکا

شام میں روس کے داعش مخالف گروپوں پر فضائی حملے بنیادی غلطی ہیں:آشٹن کارٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے واضح کیا ہے کہ امریکا روس کے ساتھ شام میں فضائی حملوں کے ضمن میں کوئی تعاون نہیں کررہا ہے۔انھوں نے شام میں روس کے اقدام کو بنیادی غلطی قرار دیا ہے۔

مسٹر کارٹر نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں بدھ کو نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ''میں پہلے بھی یہ کہہ چکا ہوں اور ہمیں یقین ہے کہ روس شام میں ایک غلط حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔اس کے طیاروں نے ان اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جو داعش کے نہیں ہیں۔یہ ایک بنیادی غلطی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''روسی جو کچھ بھی کہتے رہیں،ہم روس کے ساتھ اس وقت تک تعاون پر متفق نہیں ہوں گے جب تک وہ اس غلط حکمتِ عملی پر عمل پیرا رہتا ہے اور شامی باغیوں کے اہداف کو نشانہ بناتا رہتا ہے''۔

آشٹن کارٹر نے روسی وزارت دفاع کے اس دعوے کے بعد یہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ داعش کے خلاف کارروائیوں کو مربوط بنانے کے لیے امریکی تجاویز پرغور کررہی ہے۔

روسی خبررساں اداروں کے مطابق وزارت دفاع کے ترجمان آئیگور کوناشینکوف کا کہنا ہے کہ ''مجموعی طور پر ان تجاویز پر غور کیا جاسکتا ہے اور روسی اور پینٹاگان کے حکام بدھ کو اس کی ٹیکنیکل تفصیل پر بات چیت کررہے ہیں''۔

امریکی اور روسی حکام،دونوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ شام میں بیک وقت کارروائیوں کے دوران دونوں ممالک کے لڑاکا طیاروں کے درمیان ممکنہ حادثات سے بچنے کے لیے تبادلہ خیال کررہے ہیں۔

امریکی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ''ہم شام کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے اپنے ہوا بازوں کے پیشہ ورانہ تحفظ کے لیے بنیادی ٹیکنیکل تبادلہ خیال جاری رکھیں گے۔ہم چینل کو کھلا رکھیں گے کیونکہ یہ ہمارے ہوابازوں کے تحفظ کا معاملہ ہے''۔

امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارے شام اور عراق میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ٹھکانوں پر گذشتہ ایک سال سے بمباری کررہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ شام میں داعش اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑنے کے لیے اعتدال پسند باغی جنگجو گروپوں کی بھی حمایت کررہے ہیں۔روس نے گذشتہ بدھ کو داعش کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا۔تاہم اس کے لڑاکا طیارے شامی حزب اختلاف سے وابستہ باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بھی بمباری کررہے ہیں۔