.

''روسی حملوں سے داعش مخالف جنگ کمزور پڑرہی ہے''

سرحدی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا:ترک وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ شام میں روس کے فضائی حملوں سے داعش مخالف جنگ کمزور پڑرہی ہے۔انھوں نے روسی طیاروں کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر خبردار کیا ہے کہ سرحدی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے بدھ کے روز استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''شام میں جاری بحران ترکی،روس بحران نہیں ہے اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے۔ہم اس کو روس ،نیٹو بحران بھی نہیں بنانا چاہتے ہیں''۔

البتہ انھوں نے واضح کیا ہے کہ ترکی مزید دراندازی کو قبول کرے گا اور نہ ہم کسی بھی طرح سے بارڈر سکیورٹی یا فضائی حدود کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا کریں گے۔داؤد اوغلو نے بتایا کہ روس نے شام میں ستاون فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں صرف دو میں داعش کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ باقی حملے ''اعتدال پسند'' حزب اختلاف کی فورسز پر کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''جرابلس گذرگاہ کے دوسری جانب شام کے شمالی علاقے میں صرف اعتدال پسند حزب اختلاف ہی داعش کے خلاف واحد قوت کے طور پر کارفرما ہے۔اگر شامی حکومت اپوزیشن کو کمزور کرتی ہے تو اس سے داعش مضبوط ہوگی''۔انھوں نے خبردار کیا کہ شامی مہاجرین کا نیا انخلاء شروع ہوسکتا ہے۔

درایں اثناء ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ روس کے فوجی حکام کے ساتھ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی روک تھام کے لیے تجویز پرانقرہ میں بات چیت کو تیار ہے۔

حکمراں آق پارٹی کے ایک ترجمان کا بھی یہ کہنا ہے کہ ترکی اپنی فضائی حدود کی مزید خلاف ورزیوں کو ایک دھمکی سمجھے گا لیکن وہ اس معاملے کو مثبت انداز میں طے کرنے کے لیے روس کی پیش کش پر مل بیٹھنے کو تیار ہے۔

ترجمان عمر چیلک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم روس کی وضاحت پیش کرنے کے لیے درخواست کو ایک مثبت پیش رفت سمجھتے ہیں۔روس ایک دوست ہے لیکن اگر فضائی حدود میں دراندازی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو ہم اس کو دوستانہ رویہ نہیں بلکہ ایک دھمکی سمجھیں گے''۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ روز روس کو خبردار کیا تھا کہ وہ انقرہ کی دوستی سے محروم ہوسکتا ہے۔انھوں نے یہ انتباہ روسی جنگی طیاروں کی جانب سے شام کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں ترکی کی فضائی حدود کی دومرتبہ خلاف ورزی کے بعد جاری کیا تھا۔

روس کا ایک جنگی طیارہ گذشتہ ہفتے کے روز شام کی سرحد کے نزدیک واقع ترکی کی فضائی حدود میں گھس گیا تھا جس کے بعد ترکی کے دو ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے اس کو گھیرے میں لے کر واپس جانے پر مجبور کردیا تھا۔ایک اور روسی طیارے نے اتوار کو دوسری مرتبہ ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے اس ہفتے کے دوران انقرہ میں متعیّن روسی سفیر کو اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر تین مرتبہ طلب کیا ہے اور ان سے سخت احتجاج کیا ہے۔ترک فوج نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کے دو لڑاکا جیٹ ایف سولہ طیاروں کو ایک نامعلوم مِگ 29 نے اتوار کو شامی سرحد کے نزدیک ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔اس طیارے کا پانچ منٹ چالیس سیکنڈز تک ترک طیاروں سے آمنا سامنا ہوا تھا۔

روس نے دراندازی کے پہلے واقعے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس کا ایک طیارہ ہفتے کے روز خراب موسمی حالات کی وجہ سے مختصر وقت کے لیے ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا لیکن معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو نے روس کی اس وضاحت کو مسترد کردیا تھا اور اپنے رکن ملک ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی تھی۔