.

افغانستان میں اسپتال پر حملے پر صدر اوباما کی معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (طبیبان ماورائے سرحد) سے افغانستان میں اس کے زیر انتظام ایک اسپتال پر فضائی حملے پر معافی مانگ لی ہے۔افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں واقع اس اسپتال پر امریکی لڑاکا طیاروں کی بمباری سے بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ امریکا اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے فوجی طریق کار کا جائزہ لے گا۔انھوں نے پیرس میں قائم تنظیم کی بین الاقوامی صدر ژوان لیو کو ٹیلی فون کیا ہے اور کہا ہے کہ واقعے سے متعلق تمام حقائق کا شفاف انداز میں جائزہ لیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس نے ایک روز قبل ہی اس واقعے پر معذرت سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی مزید تفصیل کا انتظار کیا جارہا ہے۔البتہ اس نے یہ تسلیم کیا تھا قندوز میں اسپتال پر حملہ امریکا کی غلطی تھی۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے کہا ہے کہ صدر اوباما نے اسپتال کے عملے سے ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

لیو نے ایک تحریری بیان میں صدر اوباما کی معذرت کی تصدیق کی ہے اور امریکا سے اپنی تنظیم کے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آزادانہ تحقیقات کرائے تاکہ یہ پتا چل سکے کہ قندوز میں کیا ہوا تھا ،کیسے ہوا تھا اور کیونکر ہوا تھا؟

مسٹر جوش ایرنسٹ نے کہا کہ صدر اوباما نے واقعے پر خلوص دل سے معذرت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''جب امریکا کوئی غلطی کرتا ہے تو وہ اس کی ذمے داری بھی قبول کرتا ہے،جہاں مناسب ہوتا ہے،ہم معذرت کرتے ہیں اور جو کچھ رونما ہوتا ہے،ہم اس کے بارے میں دیانت دار ہوتے ہیں''۔

قندوز میں واقع اسپتال پر امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے عملے کے بارہ ارکان اور دس مریض ہلاک ہوئے تھے۔طبیبان ماورائے سرحد اور دوسرے گروپوں نے امریکا کے غلطی سے کیے گئے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

ابتدا میں امریکی حکام نے معاملے کو الجھانے کی کوشش کی تھی لیکن بعد میں واضح ہوگیا تھا کہ امریکی فوج ہی کے لڑاکا طیارے نے اسپتال پر حملہ کیا ہے۔اس وقت امریکا ،نیٹو اور افغان حکومت واقعے کی الگ الگ تحقیقات کررہے ہیں لیکن طبیبان ماورائے سرحد نے ان کو ناکافی قرار دیا ہے اور امریکا،افغانستان اور دوسرے ممالک پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے جو اس المیے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے۔

فرانسیسی زبان میں اپنے مخفف نام ایم ایس ایف سے جانی جانے والے تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ فضائی حملہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے اور یہ جنیوا کنونشنز پر بھی حملہ ہے جن کے تحت جنگ کے دوران زخمیوں کو طبی امداد بہم پہنچائی جاتی ہے۔تاہم وائٹ ہاؤس نے ضبط وتحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان جو کچھ رونما ہوا تھا،اس کا تعیّن کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔