.

لیبیا کی نئی کابینہ کا آیندہ چند گھنٹوں میں اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برنارڈینو لیون نے جمعرات کی صبح کہا ہے کہ نئی لیبی کابینہ کا آیندہ چند گھنٹوں میں اعلان کردیا جائے گا۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق لیون نے بتایا ہے کہ انھیں لیبیا کی سبکدوش ہونے والی کانگریس کی جانب سے ابھی تک نئی کابینہ کے لیے نام موصول نہیں ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ نئی لیبی حکومت الصخيرات سمجھوتے میں کسی قسم کی ترمیم کے بغیر تشکیل دی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ نیشنل کانگریس کے وفد نے حتمی سمجھوتے میں دو ترامیم کی درخواست کی تھی لیکن اس کو مسترد کردیا گیا ہے کیونکہ چند روز قبل تمام فریقوں کے درمیان طے پانے والا سمجھوتا حتمی ہے۔

انھوں نے اس کی ایک اور وجہ یہ بتائی ہے کہ عالمی برادری نے حتمی سمجھوتے میں کسی قسم کی مزید ترامیم کے بغیر قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کی درخواست کی ہے۔

برنارڈینو لیون نے مراکش کے دارالحکومت رباط سے جنوب میں واقع الصخيرات میں لیبیا کے مختلف گروپوں کے نمائندوں سے مذاکرات کیے ہیں اور ان کے نتیجے میں قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا۔

لیبیا میں جاری بحران کے حل کے لیے مراکش سے قبل اس سال کے اوائل میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی میزبانی اور ثالثی میں مذاکرات ہوئے تھے۔ان میں مختلف سیاسی گروپوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ان میں لیبیا کے متحارب دھڑوں نے ملک میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام اور خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل سے اتفاق کیا تھا۔

لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے چار سال کے بعد بھی طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پارلیمان اور وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے دفاتر مصر کی سرحد کے نزدیک واقع شہر طبرق میں قائم ہیں جبکہ دارالحکومت طرابلس میں اس کے متوازی اسلام پسند گروپوں کے اتحاد فجرلیبیا کی گذشتہ ایک سال سے حکومت ہے۔

اسلامی جنگجوؤں اور سابق باغی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا نے جنگ زدہ ملک کے تیسرے بڑے شہر مصراتہ پر بھی قبضہ کررکھا ہے جبکہ بن غازی اور دوسرے مشرقی شہروں پر وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت اور اس کے تحت سرکاری فوج کا کنٹرول ہے۔