.

یمنی باغیوں کوایندھن کی فراہمی بند کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#یمن کے عوام نے صدر ربہ #منصور_ھادی کی جانب سے تمام شہروں میں ایندھن کی تمام اقسام کی سپلائی یقینی بنانے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی ہدایت کو بڑے پیمانے پر سراہا ہے مگر ساتھ ہی عوامی حلقوں نے صدر ھادی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ #حوثی باغیوں اور #علی_صالح کے وفاداروں کو ایندھن کی سپلائی بند کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز صدر ھادی نے اپنے مشیروں کے ایک اجلاس کے دوران متعلقہ حکام کو تمام بندرگاہوں پر ایندھن کی اندرون ملک ترسیل کے لیے ہرممکن سہولیات فراہم کرنے اور جنگ سے متاثرہ شہریوں تک خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ صدر کے اس بیان پر یمنی عوام نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ باغیوں کو ایندھن کی سپلائی بند کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

یمن کے سیاسی اور اقتصادی ماہرین نے زور دیا ہے کہ صدر ھادی ملک میں ایندھن کی سپلائی کی مانیٹرنگ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیں جو اس تیل کی باغیوں تک سپلائی روکنے کو یقینی بنائے اور ایندھن کی تمام اقسام کو عوام تک پہنچانے کے لیے اقدامات کرے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یمن میں جنگ کے باعث لاکھوں لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ حوثی باغیوں کے محاصرے میں پھنسے یمنی شہری زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب کہ باغی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بلیک مارکیٹ سے تیل خریدتے ہیں۔

یمنی تجزیہ نگار"جمال" نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حوثی باغی اپنے زیر قبضہ تیل کے مراکز کے 90 فی صد ذخائر کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور عوام کو صرف 10 فی صد ایندھن فراہم کیا جاتا ہے۔ یمن میں جاری لڑائی کے دوران تیل کی قیمت متعین نہیں رہ سکی۔ جہاں بڑی مقدار میں ڈیزل اور پٹرول بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوتا رہا ہے وہیں اس کی قیمت میں بھی اتار چڑھاؤ آیا۔ یمن کے بیشتر علاقو٘ں میں 20 لیٹر ڈیزل اور پٹرول کے گیلن کی قیمت 14 ہزار ریال سے تجاوز کر گئی تھی۔ امریکی کرنسی میں یہ قیمت 70 ڈالر کے برابر ہے۔