.

انقرہ میں تباہ کن بم دھماکوں کے خلاف ہزاروں افراد کی ریلی

مرنے والوں کی تعداد 95 ہوگئی،کرد جماعت کا 128 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہزاروں افراد نے سخت سکیورٹی میں گذشتہ روز بم دھماکوں کے خلاف ریلی میں شرکت کی ہے۔ان بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد پچانوے ہوگئی ہے۔

مظاہرین احتجاجی ریلی کے لیے انقرہ میں وسط میں واقع سيهيه چوک میں جمع ہوئے تھے۔اس کے نزدیک واقع سٹی ٹرین اسٹیشن کے باہر دو بم دھماکے ہوئے تھے۔ دہشت گردی کے اس واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں ترکی میں تین روزہ سوگ منایا جارہا ہے۔

اس ریلی کا اہتمام مزدور یونینوں ،بائیں بازو کے گروپوں ، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور کرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) نے کیا تھا۔انہی گروپوں کے زیر اہتمام گذشتہ روز نکالی گئی ریلی کو بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

بہت سے مظاہرین نے صدر رجب طیب ایردوآن کو بم دھماکوں کا ذمے دار قرار دیا ہے۔انھوں نے ترک صدر اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور انھیں قاتل قرار دیا۔وہ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔حکومت نے اس الزام کو مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کردیا ہے کہ وہ بم دھماکوں میں ملوّث ہے۔

ایچ ڈی پی کے قائد صلاح الدین دیمریطس نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی جماعت کے اس دعوے کا اعادہ کیا کہ بم دھماکوں میں ایک سو اٹھائیس افراد مارے گئے ہیں جبکہ سرکاری حکام نے اس تعداد سے کم پچانوے افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''لوگوں کو انتقام لینے کے بجائے صدر ایردوآن کے اقتدار کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور اس کا یکم نومنر کو پارلیمانی انتخابات سے آغاز کرنا چاہیے''۔

صلاح الدین نے کہا کہ ہم انتقام لینے اور نفرت پھیلانے نہیں جارہے ہیں بلکہ لوگوں سے یہ کہنے جارہے ہیں کہ وہ (حکمرانوں کا) احتساب کریں''۔ان کا کہنا تھا کہ ''یکم نومبر اس جانب پہلا قدم ہے۔آپ کو اس تاریخ کا انتظار کرنا چاہیے جب ہم آمر کے اقتدار کا تختہ الٹنے کا آغاز کریں گے''۔