.

بشار الاسد کی موجودگی میں مسئلہ شام کا حل ممکن نہیں: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیراعظم مانویل فالس نے "#العربیہ" نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جب تک #بشار_الاسد اقتدار پر قابض ہیں اس وقت تک 3شام کے بحران کا کوئی پرامن تصفیہ ممکن نہیں ہے۔

فرانسیسی سربراہ حکومت نے اپنے دورہ #مصر کے دوران #قاہرہ میں العربیہ کی ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے ساتھ شراکت کو تزویراتی اہمیت کا حامل سمجتھا ہے۔ #پیرس قاہرہ کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ #سعودی_عرب سے بھی اقتصادی معاہدے کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں فرانسیسی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 150 کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل وفد جلد ہی #ریاض کا دورہ کرے گا۔ وفد کے دورے کا مقصد سعودی حکومت کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ مسٹر فالس کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کے بغیر خطے میں امن اور ترقی کا عمل آگے نہیں بڑھایا جاسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مانویل فالس نے کہا کہ دولت اسلامی "داعش" #فرانس میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کا سیاسی حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک صدر اسد اقتدار پرقابض ہیں۔ انہوں نے شامی اپوزیشن میں پائے جانے والے اختلافات کو بھی مسئلے کے حل میں ایک بڑی رکاوٹ رقرار دیتے ہوئے شامی اپوزیشن کے دھڑوں کو متفقہ ایجنڈے پر جمع ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے شام کے بحران کے حل کے لیے ایران، ترکی اور روس کو بھی شاملِ مذاکرات کرنے کی تجویز پیش کی۔ شام میں فرانسیسی فوج کے داعش کے ٹھکانوں پرحملوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیرس شام میں محدود فوجی کارروائی کے لیے تیاری کررہا ہے مگر کوئی بھی قدم اٹھانے سے قبل اپنے اتحادیوں کو اس کے بارے میں مکمل آگاہ رکھا جائے گا۔

شام کے تنازع کے حل کے لیے روس کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مسٹر فالس کاکہنا تھا کہ شام کے معاملے میں ماسکو کو بھی بات چیت میں شامل کرنا پڑےگا۔ شامی پناہ گزینوں کی آباد کاری کے بارے میں سوال کے جواب میں فرانسیسی وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک 30 ہزار شامی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دے گا۔