.

روس شام میں فوج تعینات نہیں کرے گا:پوتین

روس سنی ،شیعہ میں کوئی فرق کرتا ہے اور نہ مذہبی جنگ میں الجھنا چاہتاہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ روس شام میں ان علاقوں میں اپنی برّی فوج تعینات نہیں کرے گا جہاں وہ داعش کے اہداف پر فضائی حملے کررہا ہے۔

وہ سرکاری ٹیلی ویژن چینل روسیہ 1 کے ساتھ گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے اتوار کو نشر کیے گئے اس انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ہم زمینی کارروائیوں کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کررہے ہیں اور ہمارے شامی دوست اس بارے میں جانتے ہیں''۔

انھوں نے کہا ہے کہ روس شام میں بین المذاہب جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا ہے۔انھوں نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ روس سنی اور شیعہ گروپوں میں کوئی فرق نہیں کرتا ہے۔

روسی پارلیمان نے گذشتہ ماہ خانہ جنگی کا شکار ملک میں بشارالاسد مخالف گروپوں پر فضائی حملوں کی منظوری دی تھی لیکن حکام نے شام میں داعش یا دوسرے گروپوں کے خلاف جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے زمینی دستے بھیجنے کی تجویز مسترد کی تھی۔

روس شام میں حکام کے بہ قول ریڈیکل دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جدید لڑاکا جیٹ اورسوویت دور کے طیاروں سے بمباری کررہا ہے اور شامی فوج کو زمینی کارروائیوں میں فضائی مدد دے رہا ہے۔

قانونی حکومت کا استحکام

ولادی میر پوتین نے کہا کہ روسی کارروائیوں کا مقصد قانونی حکومت کو استحکام بخشنا ہے تاکہ سیاسی سمجھوتے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے۔

انھوں نے شام میں باغی گروپوں کے خلاف استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اس رائے کو مسترد کردیا کہ روس مغرب کے ساتھ اسلحے کی دوڑ میں شریک ہے۔

انھوں نے کہا:''یہ کوئی اسلحے کی دوڑ نہیں ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید ہتھیار بہتر ہورہے ہیں،تبدیل ہورہے ہیں۔دوسرے ممالک میں تو یہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے ہورہا ہے۔اسی لیے ہمیں اس عمل کو برقرار رکھنا ہوگا''۔

صدرپوتین نے امریکا کی قیادت میں اتحاد کی اس تنقید کو بھی مسترد کردیا ہے کہ روس شام میں فضائی حملوں سے قبل بروقت اور پیشگی اطلاع نہیں دے رہا ہے۔انھوں نے واضح کیا:''میں اس حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ کسی نے بھی ہمیں اس طرح کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا لیکن ہم نے ایسا کیا ہے''۔

درایں اثناء روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران روسی فضائیہ کے طیاروں نے شام کی فضائی حدود میں چونسٹھ پروازیں کی ہیں اور داعش کے ٹھکانوں ،اسلحہ ڈپوؤں اور تربیتی کیمپوں کو تباہ کردیا ہے۔

وزارت دفاع نے مزید کہا ہے کہ روسی طیاروں نے شام کے صوبوں حماہ ،اللاذقیہ ،ادلب اور الرقہ میں تریسٹھ فضائی حملوں میں داعش کے تریپن ٹھکانوں اور جنگی پوزیشنوں کو تباہ کردیا ہے۔

روس کے دفاعی حکام نے پینٹاگان کے حکام سے دوسری ویڈیو کانفرنس کی ہے اور ان سے شام کی فضائی حدود میں جنگی طیاروں کی پروازوں کو محفوظ بنانے اور کسی قسم کے حادثے سے بچنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔اس موضوع پردونوں ملکوں کے حکام نے ہفتے کے روزبھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

روس 30 ستمبر سے اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے۔بحر کیسپیئن میں موجود روس کے جنگی بحری جہازوں نے بھی گذشتہ بدھ کو شام کے وسطی علاقے میں کروز میزائل داغے تھے۔ان کروز میزائلوں نے پندرہ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے اور عراق اور ایران کی فضائی حدود سے گزرنے کے بعد شام میں اپنے اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔دو میزائل غلطی سے ایرانی علاقے میں بھی گرے تھے جس سے متعلق افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔