.

امریکا، سعودی عرب سے شامی بحران پرمذاکرات میں پیش رفت :روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا امریکا اور سعودی عرب کے ساتھ شامی بحران کے حتمی حل کے حوالے سے ابھی مکمل اتفاق تو نہیں ہوا ہے لیکن ان ممالک کے ساتھ شامی تنازعے پر بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

انھوں نے سوموار کو یہ بیان اتوار کو سوچی میں روسی گراں پری کے موقع پر صدر ولادی میر پوتین کی سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کے بعد جاری کیا ہے۔انھوں نے شامی بحران کے حل کے لیے امن عمل شروع کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

ترکی،روس ،ایران مذاکرات

درایں اثناء ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ''ان کا ملک روس اور ایران کے ساتھ شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے بات چیت کرے گا لیکن وہ اپنی خارجہ پالیسی میں ایسا مؤقف نہیں اپنائے گا جس سے صدر بشارالاسد کی حکومت کو قانونی جواز مل سکتا ہو''۔

انھوں نے این ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ روس کے شام کے شمال مغربی صوبوں ادلب اور حلب میں فضائی حملوں کے نتیجے میں ترکی میں مہاجرین کی آمد کا نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسی اختتام ہفتہ پر روسی طیاروں کی شامی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے بعد اسدی فوج حلب اور ادلب کے بعض علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔اسدی فوج اور اس کی حامی ملیشیائیں اس علاقے میں باغیوں کے خلاف زمینی کارروائی کررہی ہیں۔

روسی طیارے 30 ستمبر سے صدر بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں کے علاوہ داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔سوموار کو روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ روس کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران پچپن فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں داعش کے تریپن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس دوران شام میں موجود روس کے میزائل دفاعی نظام کے ذریعے سرحدی علاقے میں ترکی کے چار ایف سولہ لڑاکا طیاروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ترک فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے یونٹوں نے اس پر ضروری ردعمل ظاہر کیا ہے۔

لیکن فوج کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس نے کیا ردعمل ظاہر کیا ہے۔البتہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران روسی طیاروں کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور اس کے لڑاکا طیاروں کو ہراساں کیے جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے اس طرح کا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

شام میں روس کی فوجی مداخلت کے حوالے سے ایک اور خبر یہ سامنے آئی ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ لکسمبرگ میں آج اپنے اجلاس میں روسی طیاروں کے شام میں مغرب کے حمایت یافتہ باغی گروپوں پر حملوں کی مذمت میں بیان جاری کررہے ہیں۔اس بیان کے مسودے کے مطابق یورپی وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ روس کے اس اقدام سے شامی تنازعہ طول پکڑ سکتا ہے۔

بیان کے مطابق:''روس کے داعش اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے دوسرے گروپوں کے علاوہ اعتدال پسند حزب اختلاف پر حالیہ فوجی حملے گہری تشویش کا سبب ہیں اور انھیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے''۔