.

ایرانی کارٹونسٹ کا "جبری بکارت ٹیسٹ" قابل مذمت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم "ایمنسٹی انٹرنیشنل" نے ایران کی ایوارڈ یافتہ کارٹونسٹ اتینا فرقدانی کے جبری بکارت ٹیسٹ کی شدید مذمت کی ہے۔ اتنیا فرقدانی کو "زنا سے کم درجے کے جنسی تعلق" کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے۔ یاد رہے اتینا فرقدانی نے جیل میں اپنے وکیل سے ملاقات کے دوران اس سے ہاتھ ملایا تھا۔

"ایمنسٹی" نے اپنے بیان میں دعوی کیا کہ اتینا فرقدانی کو عدالتی حکام بکارت کے جبری ٹیسٹ کے لئے صحت کے ایک مرکز لائے کیونکہ اس کے وکیل محمد مقیمی اور اس پر "غیر شرعی مصافحہ" کا الزام تھا۔

اپنے لندن آفس سے جاری بیان میں "ایمنسٹی" نے مقدمہ کی کارروائی کو "فضول" اور "انتہائی ظالمانہ" قرار دیتے ہوئے کہ اس مقدمے کے سیاسی مضمرات بھی صاف ظاہر ہو رہے ہیں۔

ایرانی جیل میں دس مہینوں سے قید انسانی حقوق کی رضاکار اتینا فرقدانی اور ان کے وکیل محمد مقیمی پر الزام ثابت ہونے کی صورت میں 12 سال قید اور 99 کوڑوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔