.

روس، شام میں اپنی جنگ کی 'مارکیٹنگ' کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں روس کی فوجی مداخلت اور وہاں جاری لڑائی بہت سے مبصرین کے خیال میں روس کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہو رہی ہے کیونکہ ملک میں اب اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے اور مغربی پابندیوں پر بات کرنے کے بجائے شامی صورتحال زیر بحث آ رہی ہے۔

شام میں روس کی فوجی کارروائی نے نہ صرف "داعش" کے خلاف جنگ کی ضرورت کے بارے میں تنازع کھڑا کر دیا ہے بلکہ شام میں روسی خون بہنے پر الگ سے تشویش پائی جا رہی ہے۔ شامی جنگ میں روسی فوج کو جھونکنے سے پہلے "لیواڈا" نامی ادارے کے تحت ہونے والا سروے بری طرح ناکام ہوا کیونکہ 69 فی صد شہریوں نے شام میں فوجی مشن کی مخالفت کی تھی اور روس کا سفارتی محاذ بھی شام میں فوج کشی پر ہونے والی تنقید کا سامنا نہیں کر سکا تھا۔

شام میں فوج بھیجنے سے متعلق روس کی منطق کمزور نکلی۔ شامی بحران کے فوجی حل کو مسترد کرنے کرنے کے بعد ماسکو نے شامی صدر بشار الاسد کی حمایت شروع کر دی، جس کے بعد روسی میڈیا کو اپنا کارکردگی کا ماڈل تبدیل کرنا پڑا۔ اب میڈیا میں صرف وزارت دفاع کی جانب سے شام میں اپنے اہداف پر دل دہلا دینے والی بمباری کرتے لڑاکا طیاروں کے بنائے گئے ویڈیو کلیپس ہی نیوز چینلز کی سکرین کی زینت نہیں بن رہے بلکہ داعش کے خطرات سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے ٹاک شوز کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے

ماسکو، شام میں اپنے حملوں کو اس مرتبہ ‘داعش’ کے خلاف جنگ بنا کر پیش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں روسی میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلز انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں کیونکہ روس کے 90 فی صد شہری حالات حاضرہ سے متعلق جاننے کے لئے انہی پر تکیہ کرتے ہیں۔

تاہم ایک نکتہ لا ینحل چلا آ رہا ہے کہ روس اپنے فوجیوں کی شام میں ہلاکتوں کے بعد ملک کے اندر پیدا ہونے والے بحران پر کیسے قابو پائے گا۔ نیز روسی شہریوں کو ان فوجی کارروائیوں کا اقتصادی بوجھ اٹھانے کے لئے کیسے تیار کیا جائے گا۔