.

داعش پر انقرہ میں بم دھماکوں میں ملوّث ہونے کا شُبہ

داعش،کرد باغیوں اور بائیں بازو کے گروپ کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہے: اوغلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف انقرہ میں بم دھماکوں میں ملوّث ہونے کے شُبے میں مرکزی کردار کے طور پر تحقیقات کی جارہی ہے۔

انھوں نے سوموار کو این ٹی وی ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''واقعہ جس طرح رونما ہوا ہے،ہم داعش کے خلاف پہلی ترجیح کے طور پر تحقیقات کررہے ہیں۔یہ حملے یقینی طور پر دو خود کش بمباروں نے کیے تھے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''ہم بمباروں میں سے ایک کی شناخت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔اس سے بم حملوں میں ملوّث تنظیم کا پتا چلانے میں بھی مدد ملے گی''۔ ہفتے کے روز ان بم دھماکوں میں ستانوے افراد مارے گئے تھے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ داعش کے علاوہ دو اور گروپوں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) اور بائیں بازو کی انتہا پسند جماعت انقلابی پیپلز لبریشن پارٹی فرنٹ کے خلاف بھی بم دھماکوں میں ملوّث ہونے کے شُبے میں تحقیقات کی جارہی ہے اور فی الوقت ان میں سے کسی ایک کے ملوّث ہونے کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

دو مرد خودکش بمبار

قبل ازیں ترک وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ انقرہ میں تباہ کن بم دھماکے دو مرد خودکش بمباروں نے کیے تھے۔

بیان کے مطابق بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد ستانوے ہوگئی ہے اور دو سو چھیالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں دسیوں اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج ہیں۔مہلوکین میں بانوے کی شناخت ہوچکی ہے اور پانچ کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق انقرہ کے وسط میں سيهيه چوک کے نزدیک واقع سٹی ٹرین اسٹیشن کے باہر چند سیکنڈز کے وقفے سے دو بم دھماکے ہوئے تھے۔اس وقت حکومت مخالف گروپ کے زیر اہتمام پی کے کے اور ترک فورسز کے درمیان حالیہ لڑائی میں مرنے والوں کی یاد میں ایک امن ریلی نکالی جارہی تھی۔اس کا اہتمام مزدور یونینوں ،بائیں بازو کے گروپوں ، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور کرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) نے کیا تھا۔

سی این این ترک سے اس ریلی کی نشر کی گئی فوٹیج میں نوجوان مرد اور خواتین ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے قطار میں کھڑے تھے اور ڈانس کررہے تھے۔اس دوران ان کے پیچھے ایک زوردار دھماکا ہوتا ہے۔ایچ ڈی پی نے دہشت گردی کے اس واقعے میں ایک سو اٹھائیس افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا لیکن حکام نے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ''دہشت گردی کے دوسرے حملوں کی طرح انقرہ ٹرین اسٹیشن پر بم دھماکے میں ہمارے اتحاد،یک جہتی ،بھائی چارے اور مستقبل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے''۔

انھوں نے کرد باغیوں کے خاتمے تک جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے ترکی پر زوردیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے اس اندوہناک واقعے کے باوجود کردباغیوں کے خلاف کارروائی میں فوجی طاقت کا متناسب استعمال کرے۔