.

اخوان کی سرگرمیوں سے برطانیہ کی قومی سلامتی کو خطرہ ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا میں ترجمان ایڈون سیموئیل نے کہا ہے کہ مصر کی کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون ایسی سرگرمیوں میں شریک ہے،جن سے برطانیہ کی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون حال ہی میں ایسی سرگرمیوں میں ملوّث ہوئی ہے جو ہمارے نزدیک برطانوی پالیسی اور برطانیہ کی قومی سلامتی کے منافی ہیں،اس لیے ان سرگرمیوں پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔

ترجمان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ عربی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس گروپ کی بعض سرگرمیاں اور اخوان المسلمون سے وابستی تنظیموں کے رہ نماؤں کی تقریروں کو برطانوی قانون کی خلاف ورزی قراردیا گیا ہے۔

مسٹر سیموئل نے بتایا کہ برطانیہ میں اخوان المسلمون سمیت اسلامی گروپوں کی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ کو آیندہ دوماہ کے دوران جاری کردیا جائے گا۔البتہ ان کے بہ قول ہ برطانوی حکومت اس رپورٹ کی مکمل اشاعت نہیں چاہتی ہے اور اس کے چیدہ چیدہ نکات کو شائع کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں اخوان کی برطانیہ سے باہر سرگرمیوں کو موضوع بحث نہیں بنایا گیا ہے۔اس کی تیاری کا بڑا مقصد یہ تعیّن کرنا تھا کہ آیا اخوان المسلمون کی سرگرمیاں برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب سے برطانیہ میں مقیم اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ انصاف اور حریت پارٹی کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سیکریٹری محمد سعدان نے مسٹر سیموئل کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے برطانیہ کی قومی سلامتی کے منافی کوئی کام کیا ہے اور نہ اس پر کوئی سمجھوتا کیا ہے۔

انھوں نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اخوان المسلمون کا کبھی کسی تشدد سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ہم ہمیشہ پُرامن جدوجہد کے قائل رہے ہیں لیکن اپنے حق کے لیے احتجاج کرنا کوئی جُرم نہیں ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر برطانیہ کی اشاعت کی منتظر رپورٹ میں اخوان المسلمون سے متعلق کوئی مشتبہ چیز ہوتی یا برطانوی حکام نے اس کی کسی غیر قانونی سرگرمی کا پتا چلایا ہوتا تو اب تک وہ اس کا اعلان کرچکے ہوتے۔

سعدان نے بتایا کہ اس وقت دنیا بھر کے پچاسی ممالک میں اخوان المسلمون کی تحریکیں موجود ہیں۔ان سے وابستہ لوگ پُرامن ہیں اور وہ اپنی جائے مسکن معاشروں کی حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے گذشتہ سال مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے متعلق رپورٹ تیار کی تھی لیکن اس کے اجراء میں بوجوہ تاخیر کردی تھی کیونکہ وزراء اور حکام کے درمیان اس رپورٹ کے مندرجات اور نتائج کے بارے میں اتفاق رائے نہیں پایا جاتا تھا۔وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے خلیج میں اپنے اتحادیوں کے دباؤ پر ایک سفارت کار کو اس امر کی تحقیقات پر مامور کیا تھا کہ آیا اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

برطانیہ کے سرکاری ذرائع کے مطابق:''اس تحقیقاتی رپورٹ کا ماحصل یہ ہے کہ اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔نیز اس جماعت کے کارکنان کے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے بھی کوئی شواہد نہیں ملے تھے''۔برطانوی وزراء نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کی جانب سے مخالفانہ ردعمل کے پیش نظر اس رپورٹ کی اشاعت روک دی تھی۔

اخوان المسلمون مصر کی سب سے قدیم اور منظم مذہبی سیاسی قوت رہی ہے۔مصر کے موجودہ صدر اور مسلح افواج کے سابق سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی 2013ء کو اخوان سے تعلق رکھنے والے ملکی تاریخ کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کردیا تھا۔اس کے بعد مصری سکیورٹی فورسز نے گذشتہ دو سال کے دوران کریک ڈاؤن کارروائیوں میں اخوان المسلمون کے سیکڑوں کارکنان کو ہلاک کردیا ہے اور مرکزی رہ نماؤں سمیت ہزاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔انھیں مصری عدالتوں نے قتل ،بلووں اور دیگر الزامات کے تحت قائم مقدمات میں موت اور قید کی سزائیں سنائی ہیں۔تاہم ابھی تک اخوان کے مرشد عام محمد بدیع سمیت کسی رہ نما یا کارکن کی سزائے موت پرعمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

مصر کے غزہ کی پٹی اور اسرائیل کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے جزیرہ نما سینا میں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز پر جنگجو گروپوں کے حملے جاری ہیں۔ان حملوں ہی کو جواز بنا کر مصر کی حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا جبکہ اس کے سیاسی چہرہ حریت اورانصاف پارٹی پر بھی پابندی کردی تھی۔مصر کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔