.

ایران :پارلیمان نے جوہری ڈیل کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی پارلیمان نے چھے بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے تاریخی جوہری معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔اس کے بعد اس معاہدے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق منگل کو پارلیمان میں جوہری معاہدے سے متعلق قرارداد پر رائے شماری ہوئی ہے۔ایک سو اکسٹھ ارکان نے ''مشترکہ جامع لائحہ عمل'' کے نام سے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے،اکسٹھ نے اس کی مخالفت کی ہے جبکہ تیرہ ارکان رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیرحاضر رہے ہیں۔

پارلیمان میں رائے شماری کے وقت دوسو نوّے میں سے ڈھائی سو ارکان حاضر تھے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایوان میں موجود سترہ ارکان نے مذکورہ قرارداد کے حق یا مخالفت میں ووٹ نہیں دیا ہے۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان قریباً دوسال کی مسلسل سفارت کاری کے بعد 14 جولائی کو جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔امریکا کی کانگریس اور ایرانی پارلیمان کے اراکین کا اصرار تھا کہ اس پر منتخب ایوانوں میں رائے شماری ہونی چاہیے اور وہاں سے منظوری کی صورت میں اس پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔تاہم کانگریس میں ری پبلکن ارکان اس معاہدے کے استرداد سے متعلق قرارداد کی منظوری کے لیے درکار حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

ایرانی پارلیمان کے قدامت پرست ارکان جوہری معاہدے کے مسودے میں اسقام کی نشان دہی کرکے اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔انھوں نے صدر حسن روحانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا کیونکہ انھوں نے یہ کہا تھا کہ ارکان پارلیمان جان بوجھ کر اس کی منظوری میں تاخیر کررہے ہیں۔

صدرحسن روحانی کا یہ مؤقف رہا ہے کہ جوہری معاہدے سے ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کو محفوظ کردیا گیا ہے جبکہ اس کی معیشت کو مضمحل کرنے والی عالمی پابندیوں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

اتوار کو ایرانی پارلیمان میں جوہری معاہدے پرتند وتیز بحث ہوئی تھی اور بعض ارکان پارلیمان نے ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی اور دوسرے عہدے داروں پرمذاکرات کے دوران مغرب کے آگے جھکنے کا الزام عاید کیا تھا۔

واضح رہے کہ ایران اس معاہدے کے تحت اپنا جوہری پروگرام رول بیک کردے گا۔اعلیٰ سطح کی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ضائع کردے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید امریکا، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔

معاہدے کے تحت ایران ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی دے گا تاکہ وہ اس امر کی تصدیق کرسکیں کہ آیا وہ خفیہ طور پر یورینیم کو افزودہ کرنے کی سرگرمیاں تو جاری نہیں رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جوہری تنازعے پر امریکا اور مغرب کی عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کا اس سال کے آخر یا جنوری 2016ء کے اوائل میں خاتمہ ہونا چاہیے۔تاہم ایران کو آئی اے ای اے کو اپنے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت کے بارے میں مطمئن کرنا ہوگا۔جوہری ایجنسی 15 دسمبر تک ایران کی ماضی میں ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ دے گی اور اس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ''ابہام'' کو دور کرے گی۔