.

شام سے متعلق سعودی مؤقف غیر متبدل ہے: وزیر خارجہ

حوثی ملیشیا کے لیے ایرانی امداد سے انکار سورج کے مشرق سے طلوع سے انکار کے مترادف ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ شام اور بشارالاسد سے متعلق سعودی عرب کا مؤقف غیر متبدل ہے۔انھوں نے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ شامی صدر اقتدار چھوڑ دیں۔

وہ فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس کے ساتھ منگل کو دارالحکومت الریاض میں مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ بشارالاسد کا شام میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔

انھوں نے یمن میں جاری بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اب حوثی باغی گروپ اور سابق صدر علی عبداللہ صالح پر منحصر ہے کہ وہ تنازعے کا خاتمہ کریں۔سعودی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ''ہم یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل میں یقین رکھتے ہیں لیکن حوثیوں نے مسلح آپشن کو ترجیح دی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''حوثیوں کے لیے ایران کی مدد وحمایت سے انکار ایسے ہی ہے جیسے یہ کہنا کہ سورج مشرق سے طلوع نہیں ہوتا ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کی دوسری ریاستوں کے داخلی امور میں مداخلت ایک بڑا علاقائی مسئلہ ہے۔

اس موقع پر فرانسیسی وزیر خارجہ نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ بشارالاسد کو شام میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف بیرل بم برسانے سے روکنے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے۔ان کا کہنا تھا کہ فرانس شام میں طوائف الملوکی نہیں چاہتا ہے۔