.

عراق میں دسیوں بکتر بند گاڑیاں پراسرار طور پر غائب

وزارت دفاع کا گاڑیوں کی وصولی سے لاعلمی کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرپشن کی دلدل میں پھنسے #عراق میں ایک نیا اور نہایت خوفناک اسکینڈل سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک دوست ملک کی طرف سے عطیے میں دی گئی بیسیوں فوجی بکتر بند گاڑیاں پراسرار طور پر غائب ہیں۔ دوسری جانب عراقی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ غائب ہونے والی گاڑیاں انہیں مہیا نہیں کی گئی تھیں۔ وزارت دفاع کو ان گاڑیوں کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق میں دسیوں بکتر بند آرمرڈ فوجی گاڑیوں کی گم شدگی کا اسکینڈل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم #حیدر_العبادی نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے آئینی اصلاحات کا ایک نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد عراقی عوام نےملک بھر میں اصلاحات کا عمل تیز کرنے کے لیے مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم اعلان کردہ آئینی اصلاحات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں کسی قسم کی تاخیر نہ کریں۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار "العرب" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ چند ماہ کے دوران پراسرار طور پر 75 بکتر بند گاڑیاں گم ہوئی ہیں۔ ذرائع میں اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد عراق کےسیاسی حلقوں میں ایک نئی ہل چل پیدا ہوئی ہے مگر معلوم ہوا ہے کہ عراقی پارلیمنٹ کے کئی سرکردہ ارکان بکتر بند گاڑیوں کی گم شدگی کی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ اخباری رپورٹ میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا یہ بکتر بند گاڑیاں کس ملک کی طرف سے دی گئی ہیں تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گم ہونے والی فوجی گاڑیاں ایک خلیجی ملک کی طرف سے عطیہ کی گئی تھیں۔

ایاد علاوی نے بھانڈہ پھوڑ دیا

عراق کے #نیشنل_الائنس کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم #ایاد_علاوی جو پچھلے کچھ عرصے سے حکومتی کرپشن کے میگا اسکینڈلز سے پردہ اٹھاتے چلے آرہے ہیں نے بکتر بند گاڑیوں کی گم شدگی کا بھی بھانڈہ پھوڑا ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیاکہ ایک عرب ملک کی طرف سے ان کی ذاتی درخواست پر بغداد کو 76 بکتر بند گاڑیاں دی گئی تھیں مگر وہ اچانک لاپتا ہوگئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عراق کو پڑوسی خلیجی ملک کی طرف سے یہ بکتر بند گاڑیاں دولت اسلامی "#داعش" کے خلاف لڑائی کے لیے عطیہ کی گئی تھیں اورانہیں ایک مال بردار ہوائی جہاز کے ذریعے بغداد لایا گیا تھا۔

دوسری جانب عراق کی وزارت دفاع نےحکومت کی طرف سے بکتر بند گاڑیوں کی فراہمی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ فوج کو کسی دوسرے ملک کی طرف سے بھیجی گئی بکتر بند گاڑیاں مہیا نہیں کی گئیں۔

ایاد علاوی نے حکومت سے بکتر بند گاڑیوں کی گم شدگی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عراقی پارلیمنٹ کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ پارلیمان کی دفاعی کمیٹی آئندہ ہفتے اس بکتر بند گاڑیوں کی گم شدگی کی تحقیقات شروع کرے گی۔

ایران کا مشکوک کردار

عراق میں 76 بکتر بند گاڑیوں کی گم شدگی حکومت کے لیے ایک غیرمعمولی واقعہ ہے مگر ابھی تک اسکینڈل پردہ راز میں ہے۔ البتہ عراق کے بعض ذرائع یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ #بغداد میں پہنچنے والی دسیوں بکتر بند گاڑیوں پر #ایران نواز گروپوں کا قبضہ ہوسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ" #الحشد_الشعبی" اور دیگر ایران نواز گروپ ماضی میں بھی حکومتی اسلحہ چھین کراستعمال کرتے رہے ہیں۔ ایران نواز گروپوں کے پاس مغرب اور ایشیائی ممالک سے بغداد کو فراہم کیا گیا اسلحہ، توپیں، راکٹ لانچر، مشین گنیں، فوج کی مال بردار اور ٹرانسپورٹ گاڑیاں اور دھماکہ خیز مواد دیکھا گیا ہے۔

عراق کے ایک عسکری ذریعے کا کہنا ہے کہ حیدر العبادی کی حکومت پر امریکا اور بعض دوسرے ملکوں کی طرف سے بھی دبائو ہے کہ وہ ایران نواز عسکری گروپوں کو دیا گیا بھاری اسلحہ ان سے واپس لیں کیونکہ بیرون ملک سے لائے گئے ہتھیار جنگجو گروپوں کے لیے نہیں بلکہ فوج کے لیے بھیجے گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی حمایت کرنے والے شیعہ عسکری گروپوں کے اسلحہ کے ذخائر کی چھان بین کرنا بھی حکومت کے لیے سخت مشکل ہے کیونکہ شیعہ ملیشیا کو بغداد حکومت کی طرف سے ہرممکن تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔