.

ادلب کے محاذ میں حزب اللہ کی شمولیت پر روسی شرائط

لبنانی شیعہ ملیشیا کو ادلب میں بھاری جانی نقصان کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام کے شمالی علاقوں بالخصوص #ادلب اور #سھل_الغاب نامی محاذوں پر حالیہ ایام میں شامی اپوزیشن اور لبنانی شیعہ ملیشیا #حزب_اللہ کے جنگجوئوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ادلب کے محاذ میں حزب اللہ کو غیرمعمولی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے مگر تنظیم کی جانب سے سبکی سے بچنے کے لیے کم سے کم نقصان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی فوج نے ادلب میں فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے مگر ساتھ ہی اس نے زمینی آپریشن میں حصہ لینے والے حزب اللہ کے دستوں کی شمولیت پر شرائط بھی عاید کی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے آپریشنل کارروائیوں کے اہم رابطہ کار اور سرکردہ جنگجو حسن حسین الحاج کے ادلب میں قتل کی تصدیق کی ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ حسن حسین کو جنوبی لبنان میں اللویزہ کےمقام پر دفن کیا گیا ہے۔ مگر ادلب میں اعتدال پسند اپوزیشن کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے یہ واحد حزب اللہ جنگجو نہیں ہیں بلکہ مقتولین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بعض ذرائع مقتول حزب اللہ کمانڈروں کی تعداد چھ بیان کرتے ہیں۔ پیش آئندہ ایام میں مزید ہلاکتوں کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔

ادلب میں حزب اللہ جنگجو جھونک دیے گئے

حال ہی میں حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ ادلب میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں البقاعیہ کے طاریا قصبے کے رہائشی علی رضا عبداللہ الیواری، جنوبی الشہابیہ کے حسین عبداللہ رکین اور مارون الراس کے لامع موسیٰ فارس، جنوبی عترون کے عباس حسین عباس،بعلبک کے حسن بید اور حسین احمد حمزہ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں ادلب میں حزب اللہ کو جس غیرمعمولی جانی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہےاس نے صدر بشارالاسد کے حلیفوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے، کیونکہ اس وقت شام کے محاذ جنگ میں "حزب اللہ" واحد طاقت ہے جو صدر بشارالاسد کا سہارا ہے۔اسدی فوج خود کسی ایک شہر کو بچانے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اگرایران اور حزب اللہ کے جنگجوئوں کی مدد ختم ہوجائے تو بشارالاسد کی فوج میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ جائے گی۔

اس وقت ایرانی جنرل #قاسم_سلیمانی، حزب اللہ اور #بشار_الاسد کی رہی سہی فوج کی تمام توجہ ادلب کو باغیوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے پرمرکوز ہے۔ ممکن ہے روس کی فضائی بمباری کی چھتری تلے حزب اللہ اور دیگر اسد نواز عناصر ادلب کے کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کے لیےنیا آپریشن شروع کریں۔ کیونکہ جنرل سلیمانی کو ان دنوں ادلب، جسرالشغور اور حلب شہر کے کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے تیاریوں کی باتیں کرتے اور جنگجوئوں کو عسکری تربیت دینے کی باتیں کرتے دیکھا اور سنا گیا ہے۔

حزب اللہ کی شمولیت پر روس کی شرائط

شام میں بشارالاسد کی حامیوں اور مخالفین کے درمیان شمالی حماۃ،سہل الغاب اور ادلب کے ساحلی علاقوں تک کئی مقامات پر گرما گرم جنگ جاری ہے۔ شامی فوج نے بھی بیشتر محاذوں پرزمینی پیش رفت کی مہم حزب اللہ کو سونپ رکھی ہے جب کہ روس بھی فضائی بمباری کے ذریعے ان کی مدد کر رہا ہے۔ مگر حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ روس نے حزب اللہ کی شمولیت پر بعض شرائط بھی عاید کی ہیں۔ تاہم ان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

چند ماہ قبل حزب اللہ اور شامی اپوزیشن کے درمیان جنگجوئوں کی منتقلی کا ایک سمجھوتہ طے پایا تھا۔ اس سمجھوتے کے تحت حزب اللہ نے اپنے جنگجو زبدانی سے نکال کر القلمون کے علاقوں میں پھیلا دیے تھے۔ القلمون میں جنگجوئوں کی تعیناتی کا مقصد اپوزیشن کے قبضے میں چلے گئے اہم تزویراتی علاقوں کی واپسی کو یقینی بنانا تھا۔ حزب اللہ نے ایک گروپ کو جنوب میں القنطیرہ سے درعا تک کے علاقوں میں متعین کیا جب کہ دوسرے کو ادلب کا محاذ سونپا۔ ادلب میں حزب اللہ کو حالیہ دنوں میں حسن حسین الحاج سمیت کئی جنگجوئوں کی ہلاکت کی شکل میں زور دار طمانچہ پڑا ہے۔